اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

October 3, 2026

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

October 3, 2026

بورڈ آف پیس میں شمولیت کا معاملہ: ملیحہ لودھی کے سوالات پر ماہرین کی وضاحت

ملیحہ لودھی کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو علامتی قرار دینے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شمولیت ایک تاریخی اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ عدم شمولیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ، عالمی رابطہ کاری میں کمزوری اور پائیدار حل کے مواقع ضائع ہو سکتے تھے۔
بورڈ آف پیس میں شمولیت کا معاملہ: ملیحہ لودھی کے سوالات پر ماہرین کی وضاحت

پاکستانی مؤقف کے مطابق، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا ایک بنیادی مقصد فلسطینی ترجیحات کو مرکزِ بحث میں رکھنا ہے۔ پاکستان بدستور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل خودمختار فلسطینی ریاست، القدس کو دارالحکومت بنانے، شہریوں کے تحفظ اور فوری انسانی امداد کا حامی ہے۔

January 27, 2026

معروف سفارتکار ملیحہ لودھی نے اپنے مضمون Board of Contention میں بورڈ آف پیس کو ایک ایسا اقدام قرار دیا ہے جس پر امریکی اثر و رسوخ غالب ہے اور جس میں فلسطینیوں کو فیصلہ سازی میں مؤثر کردار حاصل نہیں۔ انہوں نے اس فورم میں پاکستان کی شمولیت پر بھی سوالات اٹھائے اور اسے محدود یا علامتی کردار سے تعبیر کیا۔

پاکستان کی شمولیت: علامتی یا عملی؟
پاکستانی سفارتی حلقوں کے مطابق، بورڈ آف پیس میں شمولیت ایک عملی، اصولی اور اسٹریٹجک فیصلہ ہے جو غزہ میں جاری انسانی اور سیاسی بحران کے تناظر میں کیا گیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مکمل لاتعلقی یا محض بیانات سے غزہ کے متاثرہ شہریوں کو کوئی ریلیف نہیں مل سکتا، جبکہ فعال سفارتی شمولیت کے ذریعے انسانی امداد، جنگ بندی اور سیاسی مکالمے پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔

انسانی بنیادوں پر اثرات
ملیحہ لودھی کی جانب سے پاکستان کے کردار کے عملی اثرات پر سوال اٹھایا گیا، تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے فریم ورک کے نفاذ کے بعد شہری ہلاکتوں میں کمی اور انسانی امداد کی ترسیل میں بہتری آئی ہے۔ کئی ایسے علاقے جہاں امداد ممکن نہیں تھی، وہاں ضروری اشیائے خورونوش اور طبی سہولیات پہنچائی گئیں، جسے پاکستان کی نتائج پر مبنی سفارتکاری کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

فوجی شمولیت کے خدشات
کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا گیا کہ پاکستان کی شمولیت کو فوجی کردار سے جوڑا جا سکتا ہے، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا کردار مکمل طور پر سیاسی اور سفارتی نوعیت کا ہے۔ پاکستان کسی بھی بین الاقوامی سکیورٹی فورس یا عسکری اقدام کا حصہ نہیں اور اس نے جان بوجھ کر انسانی اور سفارتی پہلو کو عسکری معاملات سے الگ رکھا ہے۔

فلسطینی مؤقف کا تحفظ
پاکستانی مؤقف کے مطابق، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا ایک بنیادی مقصد فلسطینی ترجیحات کو مرکزِ بحث میں رکھنا ہے۔ پاکستان بدستور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل خودمختار فلسطینی ریاست، القدس کو دارالحکومت بنانے، شہریوں کے تحفظ اور فوری انسانی امداد کا حامی ہے۔ سفارتی سطح پر شمولیت کے ذریعے پاکستان ان نکات کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کر رہا ہے۔

علامتی نہیں، اسٹریٹجک اقدام
ملیحہ لودھی کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو علامتی قرار دینے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شمولیت ایک تاریخی اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ عدم شمولیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ، عالمی رابطہ کاری میں کمزوری اور پائیدار حل کے مواقع ضائع ہو سکتے تھے۔ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان کی فعال سفارتکاری کو دیرپا امن اور استحکام کے لیے مؤثر راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھیں: تنی ہوئی رسی پر دوڑتی پاکستان کی سفارتی مشینری

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *