امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دے دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر مقررہ وقت کے اندر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے محفوظ نہ بنایا گیا تو امریکہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے بالخصوص بڑے بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا۔
امریکی صدر کی جانب سے دی گئی یہ ڈیڈ لائن 24 مارچ کی صبح ختم ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کرے گا اور مرحلہ وار کاروائی کا آغاز ایران کے سب سے بڑے پاور پلانٹس سے کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران نے اس دھمکی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا تو پورے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی توانائی کے مفادات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا، جس سے خطے میں ایک وسیع تر جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے درمیان صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران میں اپنے تزویراتی اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض میڈیا رپورٹس حقائق کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔ واضح رہے کہ محض ایک روز قبل امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ سے فوجی انخلا اور آبنائے ہرمز کا دفاع متعلقہ ممالک کے سپرد کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم حالیہ بیان نے صورتحال کو دوبارہ انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔