تحریکِ طالبان افغانستان کے اہم رہنماء سعید خوستی کی جانب سے القاعدہ سے منسلک شیخ ہانی السباعی کے حالیہ خطبے کی تشہیر نے ٹی ٹی اے اور عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ عید الفطر کے موقع پر جاری کردہ اس 54 منٹ طویل خطبے میں کابل کے ایک مرکز پر ہونے والی حالیہ کاروائی کو بنیاد بنا کر پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کی گئی ہے۔
القاعدہ اور ٹی ٹی اے
شیخ ہانی السباعی،جو 1990 کی دہائی سے لندن میں مقیم ہیں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے القاعدہ کی معاونت اور پروپیگنڈا کے جرم میں نامزد ہیں، نے اپنے خطاب میں پاکستانی فوج کو “مرتد اور امریکہ کا ایجنٹ” قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹی ٹی اے کے ذمہ داران کی جانب سے ایک ایسی شخصیت کے بیانیے کو فروغ دینا، جس کے روابط ایمن الظواہری اور مصری اسلامی جہاد سے رہے ہوں، اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ ٹی ٹی اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ ایک ہی نظریاتی سکے کے دو رخ ہیں۔
شيخ هانئ السباعي کا خطبۂ عید الفطر 1447ھ/2026ء
— Qari Saeed Khosty (@SaeedKhosty) March 22, 2026
📌 امریکی اشارے پر پاکستان کی افغانستان پر جارحیت
📌 مرتد پاکستانی فوج کی کابل میں اسپتال پر بمباری
📌 نشے کے علاج میں مصروف 400 مریض شہید
📌 امریکہ ہمیشہ اپنے ایجنٹوں کے شکاری کتوں کے ذریعے ہی زندہ رہتا ہے pic.twitter.com/U0WmVmlYeK
دہشت گرد گروہوں کا تکفیری ایجنڈا
حالیہ واقعات اور ٹی ٹی اے کی سپریم کورٹ کے مولوی رؤف جیسے افراد کے فتووں سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک منظم “ارتداد کا بیانیہ” تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ بالکل وہی طریقہ کار ہے جو 2001 میں طاہر یلداشیف نے اپنایا تھا اور بعد ازاں الظواہری نے شیخ عیسیٰ کو پاکستان کے مدارس میں “جہادِ پاکستان” کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ آج اسی القاعدہ زدہ نظریے کے تحت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو پاکستان میں خونریزی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عالمی خدشات اور زمینی حقائق
اقوامِ متحدہ کی متعدد رپورٹس میں پہلے ہی متنبہ کیا جا چکا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی اے کی سرپرستی میں القاعدہ کے قدم مضبوط ہو رہے ہیں۔ ایمن الظواہری کی کابل میں موجودگی اور ہلاکت اسی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ تھی۔ حالیہ پروپیگنڈا مہم ثابت کرتی ہے کہ ٹی ٹی اے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے برعکس اب بھی دہشت گرد گروہوں کی نظریاتی اور فزیکل پناہ گاہ بنا ہوا ہے، جو پورے خطے بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی جنگ افغان عوام یا ریاست کے خلاف نہیں، بلکہ اس “خوارجیت کے فتنے” کے خلاف ہے جو اسلام کا نام لے کر مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے اور مسلم ریاستوں کو کمزور کرنے کے عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔