کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے حوالے سے سنسنی خیز تاریخی حقائق اور اس کی مذہبی اسناد کی منسوخی سامنے آئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق نور ولی محسود کے دادا برطانوی راج کے دوران انگریز فوج کے لیے مخبر کے طور پر کام کرتے تھے اور اپنے ہی قبیلے (محسود) کے افراد کی معلومات فراہم کرنے کے بدلے گورا سرکار سے مراعات اور وظیفہ حاصل کرتے رہے۔ ان خدمات کے بدلے انہیں جنوبی وزیرستان میں ایک بڑا مکان بھی تحفے میں دیا گیا۔
تاریخی پس منظر اور مخبری کی یہ داستان واضح کرتی ہے کہ نور ولی محسود کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کی جڑیں محض ذاتی مفاد اور بیرونی ایجنڈوں سے منسلک ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ مذہبی اور عسکری لبادہ اوڑھ کر اپنے ہی معاشرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

کراچی کے معروف دینی ادارے ‘جامعہ دارالعلوم یسین القرآن’ نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ ادارے کے مطابق مذکورہ شخص کا جامعہ سے کوئی تعلق نہیں اور اگر اس کے نام سے کوئی سند جاری کی گئی تھی تو اسے فوری طور پر منسوخ تصور کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق نور ولی محسود، جسے 1,800 سے زائد علمائے کرام پہلے ہی ‘خارجی’ قرار دے چکے ہیں، مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بیرونی ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔ یہ انکشافات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف ایک ‘جعلی مفتی’ ہے بلکہ اس کی جڑیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف مخبری کرنے والی تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں، جس کا مقصد محض ذاتی مفاد اور انتشار پھیلانا ہے۔
ماہرین کے مطابق نور ولی محسود کی قیادت میں کالعدم گروہ کی سرگرمیاں قومی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ سکیورٹی ادارے مسلسل ان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ ان کے متعدد نیٹ ورک پہلے ہی ناکارہ بنائے جا چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ان کی سرگرمیوں کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امن کو متاثر کریں گی بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔