مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور عالمی سفارت کاری کے محاذ سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایچ ٹی این کے مطابق امریکہ اور ایران نے باضابطہ طور پر پاکستان کی جانب سے ثالثی کی پیشکش قبول کر لی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ایچ ٹی این ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور دونوں ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے باعث اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد سہولت کار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود ممکنہ طور پر رواں ہفتے کے آخر تک اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں مذاکرات کے مختلف ادوار طے پانے کی توقع ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور اسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ گزشتہ سال بھی امریکی حکومت نے ایران کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی آمادگی کو سراہا تھا۔ اگر یہ مذاکرات اسلام آباد میں کامیاب رہتے ہیں، تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری تناؤ میں کمی آئے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار ایک ‘امن ساز’ ملک کے طور پر مزید بلند ہوگا۔