پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف مشکل دور کاسامنا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے نہ صرف اپنے فوجی جوانوں بلکہ ہزاروں عام شہریوں کی بھی جانیں قربان کی۔ اس کے باوجود بعض گروہ اور تحریکیں عالمی سطح پر پاکستان کو ایک جابر ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہی تحریکوں میں سے ایک پشتون تحفظ موومنٹ ایک ہے، جو انسانی حقوق کے نام پر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتی ہے جسے غیر ملکی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
پروپیگنڈا اور حقیقت
پی ٹی ایم کا بیانیہ بظاہر انسانی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہے مگر اس کے اندر ایک گہری سیاسی حکمتِ عملی اور سازش چھپی ہے۔ پی ٹی ایم اپنی اس تحریک میں دہشت گردوں کو معصوم شہری بنا کر پیش کرتی ہے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو بطور دہشتگرد پیش کرتی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان نے انہی علاقوں میں اسکول اور ہسپتال دوبارہ تعمیر کیے ہیں جو مختلف دہشت گرد حملوں کے دوران تباہ ہوئے تھے۔
اسی طرح شہریوں کو سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے ریاستِ پاکستان نے فاٹا اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔ مگر پی ٹی ایم کی جانب سے ہمیشہ پاکستانی ریاست اور فوج کا منفی چہرہ دنیا کو دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تصویر دراصل غیر ملکی ایجنسیوں کی مدد سے بنائی جاتی ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جا سکے۔
پاکستان کی قربانیاں اور جدوجہد
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لاتعدادقربانیاں دی ہیں 94 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان ہوا جن میں فوجی جانوں کے ساتھ ساتھ معصوم شہری بھی شامل ہیں۔ پاکستان کی یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی جدوجہد محض سیاسی تماشہ نہیں بلکہ قومی بقا کی جنگ ہے۔ پاکستان فوج کی جانب سے ان علاقوں میں کئے جانے والے ہر آپریشن، ہر پالیسی اور ہر قربانی کے پیچھےایک ہی مقصد تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بچہ دہشت کے سائے میں پروان نہ چڑھے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف اپنی سرزمین کو محفوظ بنایا بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ مگر اس کے باوجود پی ٹی ایم اور اس جیسے باقی گروہ ان قربانیوں کو نظرانداز کر کے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کو کمزور دکھانے کے لیے استعمال ہورہا ہے۔
پشتون شناخت اور قومی انضمام
پی ٹی ایم کے دعووں کے برعکس، پشتون پاک فوج اور دیگر اداروں بڑی تعداد میں شامل ہیں بلکہ ان کی خدمات اور قربانیاں پاکستان کی ترقی اور سلامتی کا لازمی حصہ ہیں۔ پشتون افسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پی ٹی ایم کا دعویٰ ہے کہ پشتونوں کو ریاستی جبر کا سامنا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پشتون پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہیں اور ان کی شناخت کو عزت دی جاتی ہے۔
غیر ملکی مداخلت اور خودمختاری
پی ٹی ایم کی بین الاقوامی لابنگ دشمن قوتوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ پاکستان کو ایک جابر ریاست کے طور پر پیش کریں۔ یہ عمل نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
پاکستان کا دشمن پشتون شناخت نہیں بلکہ وہ دہشت گرد گروہ ہیں جو معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے اور خطے کو غیر مستحکم کرتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں جیسے تحریک طالبان پاکستان سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے حملے کرتی ہیں اور ان کے حامی اکثر سیاسی لبادہ اوڑھ کر سامنے آتے ہیں۔
عالمی تناظر
اگر پی ٹی ایم کے ان عوامل کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی زبان اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ پی ٹی ایم کی مہم بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جب کوئی تحریک اپنے ملک کے اندرونی مسائل کو عالمی سطح پر لے جاتی ہے اور غیر ملکی طاقتوں سے مدد حاصل کرتی ہے، تو یہ عمل ریاستی خودمختاری کے اصول کے خلاف ہوتا ہے۔
پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ دہشت گردی کوئی نسلی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ریاست کا مقصد کسی نسلی گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔مگر اس کے باوجود پی ٹی ایم اپنا پراپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہے۔
مستقبل کا راستہ
پاکستان کا مشن واضح ہے: دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا، شہریوں کی حفاظت کرنا اور استحکام کو یقینی بنانا۔ ریاست کسی نسلی گروہ کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہی، بلکہ تشدد کے خلاف لڑ رہی ہے۔ یہ بات بلکل واضح ہے کہ پی ٹی ایم کی غیر ملکی پشت پناہی سے چلنے والی مہم وقتی شور پیدا کر سکتی ہے، مگر یہ پاکستان کی قربانیوں اور جدوجہد کی حقیقت کو ختم یا کمزور نہیں کر سکتی پاکستان کی پالیسی، ہر آپریشن اور ہر قربانی کا مقصد ایک ہی ہے: ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان جہاں ہر کوئی آزادانہ رہ سکے۔
دیکھیں: اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے 7 سہولت کار گرفتار