...
دہلی کے پاس نہ وہ توازن تھا جو اسے غیر جانبدار بناتا، نہ وہ اعتماد جو اسے قابلِ قبول ٹھہراتا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایک ایسے پل کی صورت اختیار کی جو مختلف کناروں کو جوڑ سکتا تھا۔

March 26, 2026

پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی؛ اسلام آباد کے دباؤ پر اسرائیل نے ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کو ہٹ لسٹ سے نکال دیا۔ رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کی تصدیق کر دی

March 26, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ملائیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور امریکہ ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کر دی

March 26, 2026

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے 13 امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوج ہوٹلوں سے کام کرنے پر مجبور ہو گئی ہے، جبکہ کویت میں واقع اڈے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے

March 26, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی ایران میں بغاوت کرانے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اب فوجی تصادم کے بجائے اسلام آباد کے ذریعے سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے

March 26, 2026

تاجک صدر امام علی رحمان دو روزہ سرکاری دورے پر ازبکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ سپریم انٹر اسٹیٹ کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس دورے کا مقصد توانائی، پانی کی حفاظت اور تجارتی شراکت داری سمیت اسٹریٹجک اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہے

March 26, 2026

آخر دہلی اتنا مضطرب کیوں ہے؟

دہلی کے پاس نہ وہ توازن تھا جو اسے غیر جانبدار بناتا، نہ وہ اعتماد جو اسے قابلِ قبول ٹھہراتا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایک ایسے پل کی صورت اختیار کی جو مختلف کناروں کو جوڑ سکتا تھا۔
بھارت پاکستانی کی سفارتی کامیابی پر پریشان

 بھارت اس بحران میں “غیر متعلق اور حاشیے پر” دکھائی دیا جانے لگا۔ حتیٰ کہ ایرانی جہاز کے واقعے جیسے حساس معاملے پر بھی دہلی کا ردعمل غیر معمولی طور پر محتاط اور خاموش رہا۔

March 26, 2026

ابتدا میں دہلی کے ایوانوں اور بھارتی میڈیا کے پردوں پر ایک عجیب تمسخر بکھرا ہوا تھا۔ پاکستان کی جانب سے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کو ہنسی میں اڑایا گیا، اسے ایک غیر سنجیدہ دعویٰ قرار دیا گیا، اور یہ تاثر دیا گیا کہ عالمی سیاست کی بساط پر اسلام آباد کی کوئی حیثیت نہیں۔ مگر تاریخ کا مزاج ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔آج  جہاں ایک طرف پاکستان کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، تو دوسری طرف دہلی کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے پردوں تک ایک غیر مرئی بے چینی کی لہر دوڑ رہی ہے۔ جیسے ہی واشنگٹن اور تہران نے انہی سفارتی رابطوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا، وہی آوازیں جو کل تک طنز کر رہی تھیں، آج اضطراب میں بدل گئیں۔ سوال اب بھی وہی ہے کہ آخر دہلی اتنا مضطرب کیوں ہے؟

یہ اضطراب کسی ایک واقعے کا ردعمل نہیں، بلکہ ایک طویل عرصے سے تعمیر کیے گئے تصور کی شکست کا اعلان ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بنیادی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے: عالمی سیاست میں اہمیت اس کی ہوتی ہے جو بحران کے لمحے میں کارآمد ہو۔ اس نازک مرحلے میں پاکستان نے نہ کوئی نعرہ بلند کیا، نہ خود کو نمایاں کرنے کی بے تابی دکھائی، بلکہ خاموشی سے وہ کردار ادا کیا جو کسی سنجیدہ ریاست کا خاصہ ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطحی رابطے، پسِ پردہ سفارت کاری اور فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے ذریعے مخالف قوتوں میں اعتماد کی فضا قائم کی ۔عالمی سطح پر ایسے اقدامات کئے جن کی بدولت اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد پل کے طور پر دیکھا گیا۔ یہاں تک کہ مودی کے بیسٹی  ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی سفارتی پیشکش کونہ صرف سراہا گیا بلکہ قبول بھی کر لیا گیا۔

اس کے برعکس بھارت، جو خود کو عالمی سیاست کا ایک لازمی کردار سمجھتا ہے، اس پورے منظرنامے میں حاشیے پر دکھائی دیا۔ دہلی کی بے چینی کی پہلی جڑ یہی ہے کہ جس مقام کو وہ اپنی فطری میراث سمجھتا تھا، وہاں کسی اور نے اپنی موجودگی ثبت کر دی۔ برسوں سے بھارت ایک ایسا بیانیہ تراشتا رہا جس میں وہ خود کو خطے کی فیصلہ کن قوت، عالمی طاقتوں کا قریبی رفیق، اور بین الاقوامی سیاست کا لازمی جزو ظاہر کرتا رہا۔ مگر تاریخ نے جب عملی امتحان لیا تو یہ بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوا

 بھارت تمام ممالک کے ساتھ بھائی بھائی کھیلنا چاہتا تھا مگر جب ایران کے بحران نے شدت اختیار کی تو یہی سیف ڈپلومیسی بھارت کے پاؤں کی زنجیر بن گئی۔ یہ تعلقات اسے ایک غیر جانبدار کردار ادا کرنے سے روکنے لگے۔ ایک طرف واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مفادات، دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹیجک قربت، اور تیسری طرف ایران کے ساتھ کمزور ہوتے روابط، تمام مل کر دہلی کو ایک ایسے دائرے میں لے آئے جہاں وہ نہ تو ثالث بن سکتا تھا اور نہ ہی فیصلہ کن اثر ڈال سکتا تھا۔

 بھارت اس بحران میں “غیر متعلق” دکھائی دیا جانے لگا۔ حتیٰ کہ ایرانی جہاز کے واقعے جیسے حساس معاملے پر بھی دہلی کا ردعمل غیر معمولی طور پر محتاط اور خاموش رہا۔ یہ خاموشی متوازن سفارتی گنجائش نہ ہونے کا ثبوت تھی۔
جب عملی میدان سجا تو دہلی کے پاس نہ وہ توازن تھا جو اسے غیر جانبدار بناتا، نہ وہ اعتماد جو اسے قابلِ قبول ٹھہراتا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایک ایسے پل کی صورت اختیار کی جو مختلف کناروں کو جوڑ سکتا تھا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان اور بھارت کے سفارتی مزاج کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔

پاکستان نے اپنے جغرافیے، اپنے علاقائی روابط، اور اپنی تاریخی سفارت کاری کو استعمال کرتے ہوئے خود کو ایک “پل” کے طور پر پیش کیا، ایک ایسا پل جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان فاصلہ کم کر سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کا موجودہ رویہ اسی داخلی کشمکش کا عکس ہے۔ کبھی پاکستان کے کردار کو خود غرضی کا نام دیا جاتا ہے تو کبھی اسے وقتی چال قرار دیا جاتا ہےمگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ غیر اہم ہے تو پھر اس پر اتنا شور اور بے قراری کیوں؟


پاکستان کی اس سفارتی پیش رفت کے اثرات محض وقتی نہیں بلکہ دور رس ہیں، اور یہی وہ پہلو ہے جو دہلی کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھتا ہے تو اسلام آباد کی حیثیت ایک مرکزی سفارتی مرکز کے طور پر ابھر سکتی ہے،ایسی حیثیت جو اسے ماضی میں چین اور امریکہ کے درمیان تاریخی رابطے جیسے کردار کے برابر لے جا سکتی ہے ۔ اس کردار کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ، خلیجی ریاستوں اور مغربی دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات میں وسعت، اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ بیک وقت روابط رکھنے کی صلاحیت پاکستان کو ایک ایسی بنیاد بنا رہی ہے جس کی ضرورت عالمی نظام کو مسلسل رہے گی ۔ یہی وہ ہمہ جہتی فائدہ ہے جو پاکستان کیلئے نئے دروازے کھول رہا ہے، اور ایسی حقیقت ہے جسے دہلی نہ نظر انداز کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر پا رہا ہے

 اس پیش رفت نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ
اگر پاکستان یہ کردار ادا کر سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟ یہ وہ داغ ہے جو اندر ہی اندر جل رہا ہے۔ بھارت کی بے چینی  پاکستان کی کامیابی سے زیادہ اپنی سفارتی حدود کے بے نقاب ہونے پر بھی ہے۔ کیونکہ جب ایک ایسا ملک جسے وہ مسلسل کم تر سمجھتا رہا، عالمی سطح پر ایک مؤثر کردار ادا کرے تو مسئلہ انا کا بن جاتا ہے

اسی سوال نے دہلی کے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی۔ راہول گاندھی کا یہ کہنا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ایک “مذاق” بن چکی ہے، پون کھیڑا اور جے رام رمیش جیسے رہنماؤں کی تنقید بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سفارتی ناکامی ہے۔

بھارتی میڈیا کا ردعمل اسی دفاعی نفسیات کا عکس ہے۔ پاکستان کے کردار کو عارضی، موقع پرستانہ یا غیر مستقل قرار دینا دراصل اس حقیقت سے فرار کی کوشش ہے کہ اس بار عالمی سیاست کی بساط پر مرکز کہیں اور منتقل ہو چکا ہے۔

ایک ایسی خارجہ پالیسی جو توازن سے محروم ہو، جو ایک طرف جھک جائے، اور جو علاقائی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرے وہ بحران کے وقت کارآمد نہیں ہوتی۔ بھارت کی “محفوظ کھیلنے” کی حکمتِ عملی نے اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں وہ کسی بھی فریق کے لیے ناگزیر نہیں رہا۔ اس کے برعکس پاکستان کی “خطرہ مول لینے” کی حکمتِ عملی نے اسے ایک ایسا کردار دے دیا جو بظاہر مشکل مگر نتیجتاً مؤثر ثابت ہوا۔

یہی وہ فرق ہے جو دہلی کو سب سے زیادہ مضطرب کر رہا ہے۔

عالمی سیاست میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ کوئی آپ کا حال نہ پوچھے، آپ غیراہم اور غیر متعلق ہو جائیں ۔ خصوصاً اس وقت جب آپ خود کو خطے کا واحد فیصلہ کن کردار سمجھنے کے زعم میں مبتلا ہوں، تو ایسی پیش رفت محض حیران نہیں کرتی بلکہ گہری اذیت کا سبب بن جاتی ہے

اور یہی وہ سچ ہے جو دہلی کے شور، اس کے میڈیا کے تجزیوں، اور اس کے سیاسی بیانات کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ اس حقیقت کومحسوس کر رہے ہیں کہ عالمی بساط پر بھارت غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے، اور ان کا شور دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور پاکستان کی سفارتی کامیابی سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک بھونڈی اور ناکام کوشش ہے۔ وہ مسلسل چیخ رہے ہیں تاکہ پاکستان کی سفارتی کامیابی کی گونج مدھم پڑ سکے مگرشاید وہ بھول رہے ہیں کہ کامیابی اپنا شور خود مچاتی ہے۔

دیکھئیے:اسلام آباد میں امریکہ۔ ایران مذاکرات: بھارتی وزیرِ خارجہ کا پاکستان کی ثالثی پر غیر اخلاقی ردِعمل

متعلقہ مضامین

پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی؛ اسلام آباد کے دباؤ پر اسرائیل نے ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کو ہٹ لسٹ سے نکال دیا۔ رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کی تصدیق کر دی

March 26, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ملائیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور امریکہ ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کر دی

March 26, 2026

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے 13 امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوج ہوٹلوں سے کام کرنے پر مجبور ہو گئی ہے، جبکہ کویت میں واقع اڈے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے

March 26, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی ایران میں بغاوت کرانے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اب فوجی تصادم کے بجائے اسلام آباد کے ذریعے سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے

March 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.