پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دیں اور آج بھی سرحدی سکیورٹی اور داخلی استحکام کیلئے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔

April 5, 2026

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔

April 5, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی رپورٹس، سیکیورٹی تجزیات اور سفارتی بیانات کو بھی ناکافی قرار دیا جائے تو پھر شواہد کا معیار کیا ہونا چاہیے؟

April 5, 2026

افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں

April 5, 2026

افغان شہریوں میں مثبت جذبات کی سطح سب سے کم جبکہ منفی جذبات کی سطح بلند ترین رہی۔ خاص طور پر افغان خواتین کی زندگی سے اطمینان کی اوسط شرح صرف 1.26 رہی، جو عالمی سطح پر سب سے کم ہے۔

April 5, 2026

افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔

April 5, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے گمراہ کن قرار، پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر دیا

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ بیان، جس میں پاکستان کے مؤقف کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، دراصل ایک پرانا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے جو بھارت کے تیار کردہ بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے گمراہ کن قرار، پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر دیا

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دینے والا پاکستان اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتا ہے۔

November 8, 2025

استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے، جس سے خطے میں امن و استحکام کی مشترکہ کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان نے سنجیدگی سے شرکت کی اور اپنا دوٹوک اور واضح مؤقف پیش کیا کہ اب زبانی یقین دہانیوں کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ تعاون صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام وعدے دوطرفہ، قابلِ پیمائش اور قابلِ نفاذ ہوں تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں حقیقی نتائج دے سکیں۔

پاکستان کا بنیادی اور قانونی مطالبہ یہ تھا کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جائے، ان کے رہنماؤں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے اور اس حوالے سے تحریری ضمانت فراہم کی جائے۔ یہ مطالبہ کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ تاہم، افغان وفد نے حسبِ روایت آخری مرحلے پر ٹھوس اقدامات اٹھانے سے گریز کیا، جس کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ بیان، جس میں پاکستان کے مؤقف کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، دراصل ایک پرانا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے جو بھارت کے تیار کردہ بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیت اور مالیاتی نیٹ ورک اب بھی افغان سرزمین پر کھلے عام سرگرم ہیں، اور کابل انتظامیہ ان کے خلاف کسی عملی کارروائی سے گریزاں ہے۔

اگر افغان حکومت واقعی سمجھتی ہے کہ اس کی سرزمین دہشت گردوں سے پاک ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ترکیہ، قطر یا کسی غیرجانبدار بین الاقوامی مبصر کے ساتھ مشترکہ مانیٹرنگ میکنزم پر رضامندی ظاہر کرے تاکہ زمینی حقائق سب کے سامنے آ سکیں۔ پاکستان کا مؤقف یہی ہے کہ شفافیت، تصدیق اور عمل ہی اعتماد سازی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ امن، بات چیت اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی ہے۔ اس نے افغان عوام کے خلاف کبھی کوئی جارحانہ اقدام نہیں اٹھایا بلکہ گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے کر برادرانہ تعلقات کو نبھایا۔ تاہم، پاکستان اپنے عوام کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کے سمجھوتے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دینے والا پاکستان اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ امن صرف وعدوں سے نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد سے ممکن ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ کابل اپنے وعدوں کو تحریری، قابلِ تصدیق اور عملی شکل دے۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات کا اگلا دور کل استنبول میں ہوگا، دونوں ممالک کے انٹیلیجنس چیفس سربراہی کریں گے

متعلقہ مضامین

پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دیں اور آج بھی سرحدی سکیورٹی اور داخلی استحکام کیلئے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔

April 5, 2026

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔

April 5, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی رپورٹس، سیکیورٹی تجزیات اور سفارتی بیانات کو بھی ناکافی قرار دیا جائے تو پھر شواہد کا معیار کیا ہونا چاہیے؟

April 5, 2026

افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں

April 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *