معاشی ماہر پیٹر میکگوائر نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے

March 9, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج افغانستان کی صورتحال پر ہو رہا ہے۔ جارجٹ گیگنون افغان معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گی

March 9, 2026

سیشن کورٹ اسلام آباد نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات کے کیس میں سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

March 9, 2026

ڈیرہ غازی خان کے سرحدی گاؤں جوتر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔ اسلحہ اور بارودی مواد برآمد

March 9, 2026

قطر کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن ویڈیوز اور جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام میں 313 افراد کو گرفتار کر لیا ہے

March 9, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے گل لک خیل میں افغان سرزمین سے فائر کیے گئے مارٹر گولے سے ایک بچہ جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے

March 9, 2026

بھارت اور پاکستان کا فوجی تناؤ سرحدی حدود سے کہیں آگے تک بڑھ گیا

بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی کشمیر سے آگے بڑھ چکی ہے، جس سے مکمل جنگ کے خدشات اور مستقبل میں جوہری تصادم کے خطرات جنم لیتے ہیں۔

پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل صاحر شمشاد مرزا کا بھارت کے ساتھ بڑھتے فوجی تناؤ پر سنگین انتباہ

May 30, 2025

سنگاپور، 30 مئی 2025: بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ کے پیشِ نظر، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (JCSC) کے چیئرمین جنرل صاحر شمشاد مرزا نے مستقبل میں تصادم کے بڑھتے خطرات پر سنگین انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی گزشتہ تنازعات سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، خاص طور پر کیونکہ یہ تنازعہ روایتی متنازعہ خطوں سے آگے تک پھیل چکا ہے۔

فوجی تناؤ کے روایتی زون سے باہر کشیدگی

ایک پریس بریفنگ کے دوران جنرل صاحر شمشاد نے کہا کہ 22 اپریل کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کی نوعیت نمایاں طور پر بدل چکی ہے۔ پہلے فوجی تناؤ زیادہ تر کشمیر تک محدود تھی، لیکن اس بار صورتحال خطرناک حد تک بین الاقوامی سرحد تک پھیل چکی ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے جو مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج اب سرحد پر تنازعہ سے پہلے والی تعیناتی کی سطح پر واپس جا رہی ہیں۔ کشیدگی میں کمی کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن جنرل نے متنبہ کیا کہ مستقبل میں تصادم کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

جوہری تصادم کا خطرہ

اگرچہ حالیہ تنازعے میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں ہوئے، لیکن جنرل مرزا نے کہا کہ صورتحال انتہائی خطرناک تھی۔ حالیہ تاریخ میں پہلی بار، دونوں ممالک کے اندرونی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو گزشتہ قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجحان خطے اور عالمی سلامتی کے حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں دشمنی صرف کشمیر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس سے چھوٹے فوجی جھڑپوں کے بجائے مکمل جنگی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے،” اور فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

فوجی قیادت کے درمیان کوئی رابطہ نہیں

جنرل مرزا نے انکشاف کیا کہ بحران کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان نہ تو کوئی خفیہ رابطہ ہوا اور نہ ہی غیر رسمی بات چیت کی گئی۔ جب بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان سے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے واضح کیا، “ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔”

جنرل صاحر شمشاد مرزا کے تبصرے جنوبی ایشیا میں امن کی کمزور صورتحال کی ایک واضح یاد دہانی ہیں۔ جب سے بھارت-پاکستان فوجی تناؤ روایتی حدود سے آگے بڑھ چکا ہے، خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر سفارتی کوششیں تیز کرے تاکہ کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

معاشی ماہر پیٹر میکگوائر نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے

March 9, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج افغانستان کی صورتحال پر ہو رہا ہے۔ جارجٹ گیگنون افغان معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گی

March 9, 2026

سیشن کورٹ اسلام آباد نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات کے کیس میں سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

March 9, 2026

ڈیرہ غازی خان کے سرحدی گاؤں جوتر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔ اسلحہ اور بارودی مواد برآمد

March 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *