طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی قیادت میں افغان طالبان کے تحقیقاتی کمیشن نے جنگ میں طالبان کے بے پناہ نقصان اور پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کی قلت کی نشاندہی کرکے جبری بھرتیوں کی تجویز دے دی۔ سورس کے مطابق کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر اپنی رپورٹ مکمل کرلی ہے، جسے جلد ہی طالبان رجیم کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کو پیش کردیا جائے گا۔ رپورٹ میں 85 فیصد ملا ہیبت اللہ کی جانب سے قائم کئے گئے اس کمیشن جی ڈی آئی کا سرحدات وقبائل سربراہ اور وزارت دفاع کا ملٹری آپریشنز کا سربراہ شامل تھے۔ پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبوں کے گورنرز نے بھی کمیشن کی معاونت کی۔ سورس کے مطابق پاک افغان بارڈر کا مکمل دورہ کرنے کے بعد کمیشن نے رپورٹ مکمل کرلی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “کمیشن کا مقصد جنگی علاقوں کے نتائج کی بنیاد پر جنگ کے بارے میں ایک تصویر اور معلومات پیش کرنا ہے۔ وفد نے جنگ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور پھر اپنے دورے کی رپورٹ تیار کی ہے جو ملا ہیبت اللہ کو پیش کی جائے گی۔”
نمبر1 آپریشن (افغان طالبان کا پاکستانی پوسٹوں پر حملہ) پہلے دن کامیاب رہا، کیونکہ دشمن (پاکستان) کو اندازہ نہیں تھا کہ افغان سکیورٹی فورسز اس پیمانے پر براہ راست حملہ کریں گی۔
نمبر2 دن کے آغاز میں ہماری افواج کا حملہ حیران کن تھا۔ دشمن (پاکستان) نے خوف کے مارے اپنی خندقیں چھوڑ دیں اور بھاگ گئے، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری جانی نقصان ہوا۔ اگر دشمن (پاکستان) اپنی خندقوں میں موجود رہتا تو ہمارا نقصان زیادہ اور ان کا کم ہوتا۔
نمبر3 سرحد کے ساتھ دوسرے ہفتے میں ہماری (طالبان رجیم) ہلاکتوں اور مرنے والوں میں نمایاں اضافہ ہوا، اور دشمن (پاکستان) نے زمینی اور فضائی راستے سے ہماری سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا۔ ہماری افواج (طالبان رجیم) کو بھاری مالی اور انسانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، ہمارے ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، اور زخمیوں کو مناسب علاج نہیں مل رہا۔
نمبر4 دشمن (پاکستان) کے مقابلے میں ہماری پوزیشنیں بہت کمزور ہے۔ مثال کے طور پر کنڑ کے علاقے میں دشمن کے پاس 310 مضبوط پوزیشنیں ہیں جبکہ ہمارے پاس صرف 20 ہیں۔
ہمارے پاس دشمن کی طاقت کا آدھا نہیں تو کم از کم ایک تہائی ہونا چاہیے۔ اگر ہم نفری اور ساز و سامان کے لحاظ سے اتنے ہی کمزور رہے تو ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور مستقبل میں ایک بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نمبر5 مشرقی علاقے میں نئے جنگجوؤں کے لیے بھرتی اور برقرار رکھنے والے افسران کو جلد از جلد اپنی ڈیوٹی شروع کرنی چاہیے، کیونکہ ہم گولہ بارود اور مالی وسائل کے علاوہ اہلکاروں کی کمی کا بھی شکار ہیں۔
مندرجہ بالا تحقیقات کے بعد ہمیں مستقبل کے حوالے سے قیادت کی ہدایات کا انتظار ہے۔ یقینا تفصیلی معلومات ابھی زیر تفتیش ہیں اور ضروری انتظامات کے بعد قیادت کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔