سینٹرل پولیس آفس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے ایرانی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے چار دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں مرکزی ملزم بھی شامل ہے جو صحافی امتیاز میر کے قتل میں سہولت کار کے طور پر جانا جاتا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار ملزم رعایت حسین، جسے مولوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے صحافی امتیاز میر کے قتل میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ خیال رہے کہ امتیاز میر کو 22 ستمبر 2025 کو کراچی میں مبینہ طور پر اسرائیل کی حمایت کے الزام میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
تفتیش جاری
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔ سی ٹی ڈی نے تنظیم کے مالیاتی نیٹ ورک دیگر مربوط افراد اور مستقبل کے ممکنہ حملوں کی روک تھام کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
زینبیون بریگیڈ کا تعلق
کالعدم زینبیون بریگیڈ ایران سے وابستہ ایک مسلح گروہ کے طور پر جانی جاتی ہے جو پاکستان میں شیعہ عسکریت پسندی سے منسلک سرگرمیوں اور پاکستان میں متعدد سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو قتل کرنے میں ملوث رہی ہے۔ نیز پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ممالک بالخصوص شام میں لڑنے کے لیے بھیجنے میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ ریاستِ پاکستان نے کالعدم زیبیون کو کالعدم قرار دیا ہوا ہے۔
دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت