ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

February 26, 2026

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز واقعات کی اکثریت ان ریاستوں میں پیش آئی جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسرِاقتدار ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور اشتعال انگیز تقاریر کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

February 26, 2026

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

February 26, 2026

ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

February 26, 2026

تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں علیمہ خان کی مداخلت اور خود ساختہ قیادت کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، جس سے پارٹی نظم و ضبط متاثر ہونے کا خدشہ ہے

February 26, 2026

چیک پوسٹس پر تعینات سیکیورٹی اہلکار عوامی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سنگین خطرات اور سماجی ملامت کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر فرائض انجام دے رہے ہیں

February 26, 2026

سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی: کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد گرفتار

سی ٹی ڈی حکام نے کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کے چار دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا، جن میں مرکزی ملزم رعایت حسین شامل ہے، جو صحافی امتیاز میر کے قتل میں سہولت کار کے طور پر جانا جاتا ہے
سی ٹی ڈی حکام نے کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کے چار دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا، جن میں مرکزی ملزم رعایت حسین شامل ہے، جو صحافی امتیاز میر کے قتل میں سہولت کار کے طور پر جانا جاتا ہے

گرفتار دہشت گردوں کا تعلق زینبیون بریگیڈ سے ہے جو ماضی میں ہونے والی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں، ذرائع سی ٹی ڈی

January 9, 2026

سینٹرل پولیس آفس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے ایرانی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے چار دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں مرکزی ملزم بھی شامل ہے جو صحافی امتیاز میر کے قتل میں سہولت کار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار ملزم رعایت حسین، جسے مولوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے صحافی امتیاز میر کے قتل میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ خیال رہے کہ امتیاز میر کو 22 ستمبر 2025 کو کراچی میں مبینہ طور پر اسرائیل کی حمایت کے الزام میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

تفتیش جاری

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔ سی ٹی ڈی نے تنظیم کے مالیاتی نیٹ ورک دیگر مربوط افراد اور مستقبل کے ممکنہ حملوں کی روک تھام کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

زینبیون بریگیڈ کا تعلق

کالعدم زینبیون بریگیڈ ایران سے وابستہ ایک مسلح گروہ کے طور پر جانی جاتی ہے جو پاکستان میں شیعہ عسکریت پسندی سے منسلک سرگرمیوں اور پاکستان میں متعدد سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو قتل کرنے میں ملوث رہی ہے۔ نیز پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ممالک بالخصوص شام میں لڑنے کے لیے بھیجنے میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ ریاستِ پاکستان نے کالعدم زیبیون کو کالعدم قرار دیا ہوا ہے۔

دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت

متعلقہ مضامین

ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

February 26, 2026

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز واقعات کی اکثریت ان ریاستوں میں پیش آئی جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسرِاقتدار ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور اشتعال انگیز تقاریر کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

February 26, 2026

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

February 26, 2026

ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

February 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *