نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

امریکا اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کو مضبوط بنانے سے نہ صرف معاشی استحکام میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی

March 10, 2026

بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

افغانستان کی نصف آبادی کو 2026 میں اقوامِ متحدہ کی امداد درکار ہوگی؛ رپورٹ میں انکشاف

طالبان حکومت کے اندر بھی ایک محدود “اشرافیہ کا حلقہ” ابھر آیا ہے، جو غربت میں ڈوبی عام آبادی کے حالات سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتا، جبکہ عوام کی اکثریت بدستور بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔
افغانستان کی نصف آبادی کو 2026 میں اقوامِ متحدہ کی امداد درکار ہوگی؛ رپورٹ میں انکشاف

اوچا کے مطابق آئندہ سال کے لیے مجوزہ امدادی شعبوں میں تعلیم، صحت، ایمرجنسی ریلیف، خوراک و زراعت، غذائیت، تحفظ اور صاف پانی تک رسائی شامل ہیں۔

December 2, 2025

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہم آہنگیِ انسانی امور نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2026 میں افغانستان میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہوں گے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً نصف بنتا ہے۔ اوچا کے مطابق اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ افغان معاشرہ ایک بڑے انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال کے لیے امدادی سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے 1.72 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ تاہم موجودہ منصوبے کے تحت امداد صرف 1 کروڑ 75 لاکھ افراد تک پہنچ سکے گی، جس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افغان شہری بدستور امداد سے محروم رہ جائیں گے۔

اوچا کے مطابق آئندہ سال کے لیے مجوزہ امدادی شعبوں میں تعلیم، صحت، ایمرجنسی ریلیف، خوراک و زراعت، غذائیت، تحفظ اور صاف پانی تک رسائی شامل ہیں۔

معاشی بحران اور گورننس مسائل میں اضافہ

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان آبادی کا بقیہ نصف بھی شدید معاشی دباؤ، غربت، بیروزگاری اور کم کاروباری مواقع جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کے اندر بھی ایک محدود “اشرافیہ کا حلقہ” ابھر آیا ہے، جو غربت میں ڈوبی عام آبادی کے حالات سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتا، جبکہ عوام کی اکثریت بدستور بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی امداد میں کمی برقرار رہی تو افغان معاشرہ بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی انہدام کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

دیکھیں: افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں تیز؛ فاریاب اور قندوز میں متعدد طالبان ہلاک

متعلقہ مضامین

نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *