اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہم آہنگیِ انسانی امور نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2026 میں افغانستان میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہوں گے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً نصف بنتا ہے۔ اوچا کے مطابق اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ افغان معاشرہ ایک بڑے انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال کے لیے امدادی سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے 1.72 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ تاہم موجودہ منصوبے کے تحت امداد صرف 1 کروڑ 75 لاکھ افراد تک پہنچ سکے گی، جس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افغان شہری بدستور امداد سے محروم رہ جائیں گے۔
اوچا کے مطابق آئندہ سال کے لیے مجوزہ امدادی شعبوں میں تعلیم، صحت، ایمرجنسی ریلیف، خوراک و زراعت، غذائیت، تحفظ اور صاف پانی تک رسائی شامل ہیں۔
معاشی بحران اور گورننس مسائل میں اضافہ
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان آبادی کا بقیہ نصف بھی شدید معاشی دباؤ، غربت، بیروزگاری اور کم کاروباری مواقع جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کے اندر بھی ایک محدود “اشرافیہ کا حلقہ” ابھر آیا ہے، جو غربت میں ڈوبی عام آبادی کے حالات سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتا، جبکہ عوام کی اکثریت بدستور بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی امداد میں کمی برقرار رہی تو افغان معاشرہ بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی انہدام کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
دیکھیں: افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں تیز؛ فاریاب اور قندوز میں متعدد طالبان ہلاک