یکم ستمبر 1965 کا دن برصغیر کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہی وہ دن تھا جب مقبوضہ کشمیر میں جاری جھڑپوں نے ایک منظم اور باقاعدہ جنگ کا روپ دھار لیا۔ پاکستانی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت شروع کیا جانے والا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کی بروقت و کاری ضرب نہ صرف عسکری مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھی، بلکہ اس نے جنگِ ستمبر کے پورے کینوس اور مستقبل کی سمت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
آپریشن گرینڈ سلیم
اگست 1965 کے آخری ایام میں بھارتی افواج نے حاجی پیر درے پر قبضہ کر کے مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کی دھمکی دی، جس سے پاکستان کے لیے ایک سنگین دفاعی چیلنج پیدا ہو گیا۔ جواباً پاکستانی جی ایچ کیو نے دشمن پر دباؤ بڑھانے کے لیے چھمب اور اخنور کے انتہائی حساس اور اسٹریٹیجک سیکٹر کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا، جسے آپریشن گرینڈ سلیم کا نام دیا گیا۔
اس آپریشن کا مرکزی ہدف اخنور کا قصبہ اور وہاں واقع دریائے چناب کا پل تھا، کیونکہ اگر یہ پل پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں آ جاتا تو وادیِ کشمیر، سرینگر اور راجوڑی-پونچھ میں موجود بھارتی افواج کا باقی بھارت سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جاتا۔
یکم ستمبر کی صبح 3:30 بجے 12ویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل اختر حسین ملک کے حکم پر پاکستانی توپ خانے نے ڈیوائن، منادی اور چھمب میں بھارتی مورچوں پر شدید گولہ باری کی۔ اس کے بعد 4 کیولری اور 11 کیولری کے ایم-47 اور ایم-48 پیٹن ٹینکوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے بھارتی 68ویں انفنٹری بریگیڈ اور اے ایم ایکس-13 ٹینکوں کو سخت ہزیمت سے دوچار کیا۔ صبح 10 بجے تک چھمب کا بڑا حصہ فتح ہو چکا تھا اور بھارتی کمانڈر میجر جنرل نرجن پرشاد کو اپنا ہیڈکوارٹر اور جنگی نقشے چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
سرپرائز اور برتری
زمین پر اپنی افواج کی عبرت ناک پسپائی اور اخنور کے ممکنہ سقوط کو دیکھ کر بھارتی آرمی چیف جنرل جے این چوہدری نے وزیرِ دفاع وائی بی چوان کے ذریعے بھارتی ایئر فورس کی مدد حاصل کی۔ شام 5:19 بجے بھارتی فضائیہ کے 12 ڈیمپائر اور مسٹیر طیارے پاکستانی پیش قدمی کو روکنے کے لیے چھمب کی فضا میں داخل ہوئے۔
مقابلے میں سرگودھا ایئربیس سے نمبر-19 اسکواڈرن کے قائد اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر اپنے ایف-86 سیبر طیاروں کے ساتھ نمودار ہوئے۔ فلائٹ لیفٹیننٹ دلدار چوہدری، فلائٹ لیفٹیننٹ مبین الدین اور فلائٹ لیفٹیننٹ سرور شاد پر مشتمل اس شاہینوں کی ٹیم نے محض چار منٹ کی مختصر مدت میں بھارت کے تمام چاروں ڈیمپائر طیاروں کو فضا ہی میں تباہ کر کے زمین بوس کر دیا، جس کے نتیجے میں باقی بھارتی پائلٹ سراسیمہ ہو کر فرار ہو گئے۔
اثرات اور نتائج
یکم ستمبر کے اس تاریخی معرکے نے بھارتی عسکری قیادت کے حواس باختہ کر دیے اور اس کے عسکری و سیاسی اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوئے۔ اس ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے اپنے پرانے ڈیمپائر طیاروں کو جنگ کے میدان سے مستقل طور پر ہٹا دیا اور پاک فضائیہ کا خوف بھارتی ایئر فورس پر طاری ہو گیا۔
کشمیر کے محاذ پر مکمل ناکامی اور اخنور کا سقوط دیکھ کر بھارتی عسکری قیادت نے اسی رات فیصلہ کیا کہ کشمیر کو بچانے کے لیے جنگ کا دائرہ لاہور اور سیالکوٹ کی عالمی سرحدوں تک پھیلایا جائے۔ یہ معرکہ جہاں میجر جنرل اختر حسین ملک، اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر اور ان کے جری ساتھی پائلٹوں کی شجاعت کی علامت ہے، وہاں یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بہترین سٹریٹجی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے دشمن کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔