پاکستان میں تعینات افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ بات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) میں اپنے خطاب کے دوران کہی۔
افغان سفیر کے مطابق افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا خواہاں نہیں۔ تاہم انہوں نے افغان سرزمین پر کسی بھی فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے براہِ راست رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔
پاکستان کے خدشات تسلیم
افغان سفیر کے بیان کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کابل نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس کے بجائے انہیں کھلے عام تسلیم کیا گیا۔
سردار احمد شکیب نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق الزامات ٹھوس شواہد پر مبنی ہونے چاہئیں۔ ان کے بقول متعلقہ افراد، نیٹ ورکس اور واقعات کی واضح نشاندہی ضروری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مسلسل افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
آگے بڑھنے پر زور
افغان سفیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے بارے میں پرانے تصورات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کے مطابق آج کا افغانستان سرد جنگ یا 2001 کے بعد کے دور جیسا نہیں۔ 2021 کے بعد کابل میں ایک نئی سیاسی حقیقت وجود میں آ چکی ہے۔
تاہم پاکستان کے نکتہ نظر سے اصل سوال سیاسی شناخت نہیں بلکہ عملی سکیورٹی ذمہ داری ہے۔ اگر افغانستان یقین دہانی کراتا ہے تو اس کا عملی مظاہرہ بھی ضروری ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے، کیونکہ یہ عناصر پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
باہمی انحصار
افغان سفیر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور معاشی باہمی انحصار کا بھی اعتراف کیا۔ ان کے مطابق افغانستان کے حالات پاکستان کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کی صورتحال بھی افغانستان پر اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ باہمی انحصار پاکستان کے لیے موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ تجارت اور عوامی روابط دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ البتہ پائیدار معاشی تعلقات کے لیے سکیورٹی کا مسئلہ حل ہونا لازمی شرط ہے۔
آگے کیا ہونا چاہیے؟
افغان سفیر کی یقین دہانی اصولی طور پر مثبت پیش رفت ہے۔ اس کی اصل اہمیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کابل اسے عملی پالیسی میں کس حد تک تبدیل کرتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تنازع کا مستقل حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات میں ہے۔ اس کے لیے براہِ راست رابطہ اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر تعاون درکار ہے۔ پاکستان کی سلامتی یقینی بنانا اسلام آباد کی ذمہ داری ہے، جبکہ اپنی سرزمین کا غلط استعمال روکنا افغانستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
این ڈی یو میں افغان سفیر کا خطاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں پاکستان کے خدشات کو سمجھنے کا واضح اظہار موجود ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سفارتی رابطوں کے ساتھ عملی اقدامات بھی سامنے آئیں تاکہ سرحد پار دہشتگردی ختم ہو اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔
دیکھیے: دس افغان صوبوں میں کارروائیاں، طالبان مخالف مزاحمت میں نئی لہر