صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”

March 15, 2026

سیکیورٹی مبصرین کے مطابق نیمروز اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی گروپوں اور طالبان فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

March 15, 2026

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی صورت میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور ملک کو ایک بار پھر جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکالا جائے۔

March 15, 2026

تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔

March 15, 2026

ذرائع کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے جنگجوؤں نے تخار کے ایک علاقے میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملہ اچانک گھات لگا کر کیا گیا جس کے نتیجے میں مولوی معراج الدین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

March 15, 2026

ذرائع کے مطابق قندھار کے ڈسٹرکٹ 13 میں قائم ایک خصوصی فورس یونٹ کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ یونٹ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا اور اسے طالبان کی اہم ترین سیکیورٹی فورس سمجھا جاتا ہے۔

March 15, 2026

خضدار میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، بی ا یل اے کے 14 دہشتگرد ہلاک

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اور سیکیورٹی فورسز عوام کے تعاون سے بلوچستان کو امن و استحکام کی راہ پر گامزن رکھیں گی۔
خضدار میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، بی ا یل اے کے 14 دہشتگرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مکمل سرچ آپریشن کیا۔

October 4, 2025

بلوچستان کے ضلع خضدار میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران فتنۃ الہندوستان بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 14 دہشتگردوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔ اطلاعات کے مطابق، خضدار کے علاقے زہری میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی جانب سے پرامن شہریوں کو ہراساں کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مکمل سرچ آپریشن کیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشتگرد طویل عرصے سے علاقے میں سرگرم تھے اور عوام کو دھمکیاں دے رہے تھے۔

سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں علاقے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا۔ آپریشن کے دوران 20 سے زائد دہشتگرد زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فتنۃ الہندوستان مسلسل ناکامیوں کے باعث شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اپنے ناپاک عزائم میں ناکام ہونے کے بعد بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

زہری کے عوام نے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فورسز کے حق میں نعرے لگائے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا۔

وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے خضدار میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو شاباش دی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا اور فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اور سیکیورٹی فورسز عوام کے تعاون سے بلوچستان کو امن و استحکام کی راہ پر گامزن رکھیں گی۔

دیکھیں: ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 13 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”

March 15, 2026

سیکیورٹی مبصرین کے مطابق نیمروز اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی گروپوں اور طالبان فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

March 15, 2026

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی صورت میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور ملک کو ایک بار پھر جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکالا جائے۔

March 15, 2026

تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔

March 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *