نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔

May 3, 2026

پہلی آئینی شاہراہ کا یہ اسکینڈل پاکستان میں قانون کی بالادستی اور اشرافیہ کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جانی چاہیے۔ اگر ایک عام شہری کے لیے قانون سخت ہے، تو اشرافیہ بھی اس سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

May 3, 2026

انہوں نے زور دیا کہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں صرف پاکستان کے لیے ہی خطرہ نہیں ہیں بلکہ پورا خطہ، بشمول ایران، وسطی ایشیا اور چین، اس کی زد میں آ سکتا ہے۔

May 3, 2026

اس جنگ میں عالم اسلام کے لیے جو سب سے بڑی خوشخبری ہے ۔ وہ یہ ہے کہ تل ابیب پہلے ہم سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے جانے والے لشکر کے بعد اب یہ فاصلہ چند سو کلومیٹر تک رہ گیا ہے ۔ اسرائیل اب عرب دنیا کے خلاف کوئی بھی جارحیت کا ارتکاب کرنے سے قبل سو دفعہ سوچے گا ۔

May 3, 2026

طالبان ماضی میں بھی خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، اور اب اسی حربے کو پورے شہری علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔

May 3, 2026

طالبان قیادت اپنی پالیسیوں کے لیے عوامی تائید کی ضرورت کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ رجیم نے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق پر سوال اٹھانے والے اپنے ہی رہنماؤں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا

May 3, 2026

خطے کے بحرانوں کی جڑ: طالبان کی پالیسیاں اور افغانستان کی بدلتی سیکیورٹی صورتحال

تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔
خطے کے بحرانوں کی جڑ: طالبان کی پالیسیاں اور افغانستان کی بدلتی سیکیورٹی صورتحال

اگر افغانستان کی سرزمین کو شدت پسند گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے نہ روکا گیا تو یہ صورتحال مستقبل میں مزید بڑے سیکیورٹی بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔

March 15, 2026

موجودہ سیکیورٹی بحران اور اس سے پہلے پیش آنے والے بیشتر علاقائی بحرانوں کی بنیادی وجہ افغانستان میں طالبان کی پالیسیاں قرار دی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دینے اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی حکمت عملی نے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت پر طویل عرصے سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ مختلف شدت پسند تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے رہے ہیں۔ ان گروہوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جیش العدل، تاجکستان کی تنظیم انصاراللہ اور القاعدہ جیسے نیٹ ورکس کے نام بھی لیے جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان تنظیموں کی موجودگی نے افغانستان کو علاقائی سیکیورٹی تنازعات کا مرکز بنا دیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف سرحدی تنازعات کو جنم دیا بلکہ افغانستان کو بڑی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے درمیان جاری جیوپولیٹیکل کشمکش کا حصہ بھی بنا دیا۔

سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی اور حالیہ جنگی صورتحال کو بھی انہی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر افغانستان کی سرزمین کو شدت پسند گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے نہ روکا گیا تو یہ صورتحال مستقبل میں مزید بڑے سیکیورٹی بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔

May 3, 2026

پہلی آئینی شاہراہ کا یہ اسکینڈل پاکستان میں قانون کی بالادستی اور اشرافیہ کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جانی چاہیے۔ اگر ایک عام شہری کے لیے قانون سخت ہے، تو اشرافیہ بھی اس سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

May 3, 2026

انہوں نے زور دیا کہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں صرف پاکستان کے لیے ہی خطرہ نہیں ہیں بلکہ پورا خطہ، بشمول ایران، وسطی ایشیا اور چین، اس کی زد میں آ سکتا ہے۔

May 3, 2026

اس جنگ میں عالم اسلام کے لیے جو سب سے بڑی خوشخبری ہے ۔ وہ یہ ہے کہ تل ابیب پہلے ہم سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے جانے والے لشکر کے بعد اب یہ فاصلہ چند سو کلومیٹر تک رہ گیا ہے ۔ اسرائیل اب عرب دنیا کے خلاف کوئی بھی جارحیت کا ارتکاب کرنے سے قبل سو دفعہ سوچے گا ۔

May 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *