ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سال 2025 کے دوران ملک بھر میں کی گئیں سیکیورٹی کارروائیوں کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس میں 67,023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جنکے نتیجے میں 1,873 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ کارروائیاں بلوچستان میں میں کی گئیں ہیں جہاں 53 ہزار سے زائد آپریشنز ہوئے جبکہ خیبر پختونخوا میں 12,857 آپریشن کیے گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں برس دہشت گردی کے 4,729 واقعات رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 3,357 واقعات کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔
پاک افغان سرحدات
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق خیبر پختونخوا اور افغانستان کے درمیان 1,229 کلومیٹر طویل سرحد ہے جس پر 20 سرحدی عبورگاہیں واقع ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان مقامات پر مکمل نگرانی کا عمل مشکل ہے نیز سمگلنگ و منشیات کی روک تھام کی ذمہ داری بنیادی طور پر صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا سے وصول ہونے والے بھتے کی رقم افغان طالبان کے پاس بھی جاتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ گاڑیاں زیر استعمال ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے اعداد و شمار بھی جاری کیے، جن کے مطابق سال 2024 میں 366,000 جبکہ 2025 میں 971,604 افغان شہریوں کو اپنے وطن واپس بھیجا گیا۔
افغان حکومت سے مسائل
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ افغان عوام سے نہیں بلکہ طالبان حکومت سے ہے جو نہ تو عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور نہ ہی دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر و عملی کارروائی کرتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے موقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے اراکین پاکستان سے ہجرت کر کے آئے ہیں اور وہ ان کے ہاں مہمان ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے مہمان ہیں جو اسلحہ بھی رکھتے ہیں اور پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں بھی کرتے ہیں؟
حالیہ دہشت گردانہ حملے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹر پر حالیہ حملہ آور دہشت گرد بھی ضلع تیراہ کے راستے داخل ہوئے جو عرصہ دراز سے سمگلنگ و منشیات اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ انکے مطابق جب بھی سیکیورٹی فورسز آپریشن کرتی ہیں تو دہشت گرد مقامی شہریوں و آبادیوں کو اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ریاستِ پاکستان کا مؤقف
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان جب سرحد پار کارروائیاں کرتا ہے تو انکا اعلانیہ اعتراف بھی کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ پاک فوج کی کارروائیوں کا نشانہ کبھی بھی عام شہری نہیں ہوتے۔ ساتھ ہی انہوں نے فوجی افسران کے اثاثوں کے سالانہ اعلان کے شفاف نظام کی طرف بھی توجہ دلائی۔
دیکھیں: اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے 7 سہولت کار گرفتار