پاکستان کے ساتھ دوستی ایران کی ترجیحی حکمت عملی ہے: عراقچی

کارآمد تجارتی اور ٹرانزٹ کاریڈورز کا قیام، جو باہمی فائدے پر مبنی ہوں، نہ صرف ہمارے عوام کو عملی فوائد فراہم کرے گا بلکہ خطے میں قیادت کا نیا وژن بھی متعارف کرائے گا۔
ایرانی صدر کا دورہ پاکستان: کیا خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟

صدر پزشکیان کا یہ دورہ ایران پاکستان تعلقات میں ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشی ترقی اور مشترکہ سیکیورٹی جیسے مفادات تاریخی کشیدگی اور جیوپولیٹیکل چیلنجز پر غالب آ رہے ہیں تو یہ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا دورہ پاکستان ملتوی

افغان وزیرِ خارجہ کا دورہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر مؤخر کیا گیا ہے
ایران کو پُر امن مقاصد کیلئے جوہری توانائی کا مکمل حق حاصل ہے: شہباز شریف

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ایرانی دورے کی خصوصی دعوت بھی دی
پاکستان اور ایران نے 8 ارب ڈالرز کا سالانہ تجارتی ہدف مقرر کر لیا

جام کمال نے ایران پاکستان تعلقات کو ثقافت، تجارت اور بھائی چارے کی علامت قرار دیا جبکہ عطابک نے کہا کہ دونوں ممالک کے قریبی روابط خطے میں استحکام لا سکتے ہیں۔
بھارت میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی؛ ایک سنیگن انسانی المیہ

بھارت میں قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذات کی بنیاد پر حقوق دیے جارہے ہیں
ایران پاکستان تعلقات: تاریخی پس منظر اور حالیہ پیش رفت

پاکستان اور ایران دریا کے وہ کنارے ہیں جو نہ کبھی جدا ہو سکتے ہیں نہ باہم مل سکتے ہیں، وقت اور حالات کے پیش نظر قربت اور دوریاں پیدا ہوتی رہی ہیں مگر اتنا طے ہے کہ دونوں ممالک نے مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہت گہرے اور دیر پا ہیں جو تاریخی طور پر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے اسلام آباد میں ملاقات

دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور تجارتی روابط میں وسعت کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔