ان میں سے صرف داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 3000 کے قریب بتائی گئی ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

May 14, 2026

سیکیورٹی فورسز کی مستعدی کے باعث اب تک 3 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے فرار ہونے والے دیگر شرپسندوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

May 14, 2026

پرامن تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ ہی آگے بڑھنے کا واحد منطقی راستہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرے اور اس کے بجائے پاک بھارت مذاکرات اور سفارتی مشغولیت کی فعال حمایت کرے۔

May 14, 2026

فورسز کو علاقے میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اور معتبر اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے مشترکہ ٹیموں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 9 شرپسند مارے گئے۔

May 14, 2026

رونالڈو نے اپنے گزشتہ 30 بین الاقوامی میچوں میں شاندار 25 گول اسکور کیے ہیں، جبکہ 2025ء کی نیشنز لیگ کے فائنل میں اسپین کے خلاف اہم گول کر کے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی ہے۔

May 14, 2026

سینیئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے اسٹار اداکار فہد مصطفیٰ کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں اب اسکرین پر اپنی ہم عمر ہیروئنز کے ساتھ کاسٹ ہونا چاہیے۔ فہد مصطفیٰ کی جانب سے اس پر ردِعمل سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا اور اب امر خان نے بھی اس کی کھل کر حمایت کی ہے۔

May 14, 2026

ایران پاکستان تعلقات: تاریخی پس منظر اور حالیہ پیش رفت

پاکستان اور ایران دریا کے وہ کنارے ہیں جو نہ کبھی جدا ہو سکتے ہیں نہ باہم مل سکتے ہیں، وقت اور حالات کے پیش نظر قربت اور دوریاں پیدا ہوتی رہی ہیں مگر اتنا طے ہے کہ دونوں ممالک نے مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہت گہرے اور دیر پا ہیں جو تاریخی طور پر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
پاک ایران تعلقات

پاک ایران دوستانہ تعلقات خطے کے امن کے بہت ضروری ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ممالک کی بقاء کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور بین الاقوامی سطح پر بھی حمایت کرنا خاصا اہم ہے۔

August 3, 2025

ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان پہنچ گئے ہیں، یہ انکا ایران اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے بعد کسی بھی ملک کا پہلا دورہ ہے۔ چونکہ پاکستان نے جنگ کے دوران ایران کی کھل کر سفارتی سطح پر حمایت کی اور پارلیمان سے اسرائیل کی ایران پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی، جس کا شکریہ ایرانی صدر نے ایرانی پارلیمنٹ میں پرزور انداز میں ادا کیا، اسی وجہ سے یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں بنیادی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے پر بات ہوگی جس کے بارے میں ایرانی صدر نے تہران میں پاکستان روانگی سے قبل کہا کہ کوشش ہے کہ دونوں ممالک کی تجارت کا حجم دس ارب ڈالر تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے بھی بات ہوگی اور اسے جلد مکمل کرنے کی حکمت عملی پر غور ہوگا۔

ایرانی صدر اپنے دو روزہ دورے کے دوران صدر پاکستان، وزیراعظم اور دیگر سیاسی اور حکومتی شخصیات سے ملاقات کریں گے جس میں اہم ترین معاملہ ایران امریکہ تعلقات اور کشیدگی میں پاکستان کا مثبت کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔ چونکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے گذشتہ ہفتے امریکہ کے دورے کے دوران ایران امریکہ تنازعات میں مثبت کردار ادا کرنے کی پیشکش کی جسے امریکہ نے بھی قبول کیا، تو بین الاقوامی پابندیوں اور ایران امریکہ تعلقات کے پیش نظر بھی ایرانی صدر کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل لگ رہا ہے۔

پاکستان اور ایران دریا کے وہ کنارے ہیں جو نہ کبھی جدا ہو سکتے ہیں نہ باہم مل سکتے ہیں، وقت اور حالات کے پیش نظر قربت اور دوریاں پیدا ہوتی رہی ہیں مگر اتنا طے ہے کہ دونوں ممالک نے مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہت گہرے اور دیر پا ہیں جو تاریخی طور پر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

چونکہ پاکستان کی ایران کے ساتھ قریباً 909 کلو میٹر لمبی سرحد ہے اسی وجہ سے دونوں ممالک کی مذہبی،سماجی، اخلاقی اور لسانی اقدار و روایات بھی مشترک ہیں۔ آزادئ پاکستان کے بعد ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا اور تب سے پاک ایران تعلقات کا آغاز ہوا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مظبوط و مستحکم ہوتا گیا۔

ایران کو چونکہ ایٹمی پروگرام اور خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ مدد کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے اسی وجہ سے پاک ایران معاہدے بھی تعطل کا شکار رہے ہیں، پاکستان ایران پر یکطرفہ لگنے والی پابندیوں کی حمایت نہیں کرتا اور ان پابندیوں کو خطے کے لئے مزید بد امنی کا باعث سمجھتا رہا ہے، اسی لئے پاکستان نے ان مسائل کو مذاکرات اور باہمی مشاورت سے حل کرنے پر زور دیا ہے، اور حالیہ دورے میں بھی اس حوالے سے مثبت پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

پاک ایران دوستانہ تعلقات خطے کے امن کے بہت ضروری ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ممالک کی بقاء کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور بین الاقوامی سطح پر بھی حمایت کرنا خاصا اہم ہے۔ یہی چیز دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بہتر اور مستحکم کر رہی ہے۔ چونکہ جغرافیائی طور پر دیکھا جائے تو ایران کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچتا ہے تو اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی ہو سکتے ہیں۔ لہذا دونوں ممالک کو اپنی بقاء کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی ضرورت ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران پر جاری بین الاقوامی پابندیاں ختم ہوں تاکہ وہ کھل کر دوسرے ممالک سے تجارت اور معاہدے کر سکے اور امید ہے کہ ایران پر لگی پابندیوں کے حوالے سے پاکستان ایک مثبت ،تعمیری اور تاریخی کردار ادا کر سکتا ہے۔

دیکھیں: اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے اسلام آباد میں ملاقات

متعلقہ مضامین

ان میں سے صرف داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 3000 کے قریب بتائی گئی ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

May 14, 2026

سیکیورٹی فورسز کی مستعدی کے باعث اب تک 3 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے فرار ہونے والے دیگر شرپسندوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

May 14, 2026

پرامن تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ ہی آگے بڑھنے کا واحد منطقی راستہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرے اور اس کے بجائے پاک بھارت مذاکرات اور سفارتی مشغولیت کی فعال حمایت کرے۔

May 14, 2026

فورسز کو علاقے میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اور معتبر اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے مشترکہ ٹیموں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 9 شرپسند مارے گئے۔

May 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *