طالبان حکومت: مرکزیت، نظریاتی جبر اور غیر یقینی استحکام

اقوامِ متحدہ کی سولہویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت شدید مرکزیت، سخت نظریاتی کنٹرول اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہے۔ امیرالمومنین ہیبت اللہ اخوندزادہ تمام فیصلوں کا واحد منبع ہیں اور قندھار حکومت کا اصل سیاسی مرکز بن چکا ہے، جبکہ صوبائی علماء کونسلیں نظریاتی نگرانی کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہیں

اقوامِ متحدہ کی سولہویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت شدید مرکزیت، سخت نظریاتی کنٹرول اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہے۔ امیرالمومنین ہیبت اللہ اخوندزادہ تمام فیصلوں کا واحد منبع ہیں اور قندھار حکومت کا اصل سیاسی مرکز بن چکا ہے، جبکہ صوبائی علماء کونسلیں نظریاتی نگرانی کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہیں