تعلیم دشمنی یا نسلی تطہیر، جوزجان میں ازبک خواتین اساتذہ کی چھانٹی

جوزجان میں کم از کم 53 خواتین اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا ہے، بعض اساتذہ کی جگہ پر کم پڑھی لکھی ایسی پشتون خواتین کا تقرر کیا جا رہا ہے جو کسی بااثر طالبان عہدیدار کی رشتہ دار ہیں
ڈیورنڈ لائن پر گھمسان کی جنگ: انگور اڈہ اور کابل کے اہم ملٹری کمپاؤنڈز پر پاکستانی فوج کا قبضہ

خوست کے ضلع علی شیر میں طالبان نے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ اپنی پوسٹیں چھوڑ دی ہیں اور اس وقت توروابو اور قدامو کے دیہات میں سول آبادی کے درمیان مورچے کھودنے اور توپ خانہ نصب کرنے کا کام جاری ہے
مظلومیت کا لبادہ یا دہشت گردی کی پشت پناہی؟ کابل حملے پر طالبان کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب

طالبان کے ترجمان کی کا کابل میں ہسپتال پر حملے اور بھاری جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد؛ یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو چھپانے اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کو چھپانے کا پراپیگنڈا ہے
آپریشن غضب للحق: کابل اور ننگرہار میں عسکری تنصیبات پر پاکستان کی کاری ضرب، اسلحہ کے بڑے ذخائر تباہ

پاکستان نے ‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت کابل اور ننگرہار میں طالبان کے زیرِ اثر عسکری مراکز تباہ کر دیے؛ ثانوی دھماکوں نے وہاں موجود اسلحہ کے بڑے ذخائر کی موجودگی ثابت کر دی
افغانستان میں فوجی تنصیبات کی تصاویر بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی عائد

افغان حکام نے فوجی تنصیبات اور عسکری سرگرمیوں کی تصاویر بنانے یا انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کو قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا انتباہ دیا ہے
کابل میں ہسپتال پر حملے کے الزامات؛ پاکستان کی فضائی کاروائی یا طالبان کا پری پلان ایکشن؟

حیران کن طور پر دو دن قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ قندھار میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگلے ہی دن ایک اور ایسے ہسپتال پر حملے اور 400 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دینا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔