ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستان کے ساتھ زمینی جنگ کے دوران طالبان نے کچھ علاقوں میں پسپائی اختیار کر لی ہے۔ سورس کے مطابق خوست کے ضلع علی شیر میں طالبان نے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ اپنی پوسٹیں چھوڑ دی ہیں اور اس وقت توروابو اور قدامو کے دیہات میں سول آبادی کے درمیان مورچے کھودنے اور توپ خانہ نصب کرنے کا کام جاری ہے۔
اس کے علاوہ برمل اور گومل اضلاع میں بھی سرحدی چوکیاں اور انگور اڈہ کراسنگ پر کسٹم آفس اور تین ملٹری کمپاؤنڈز خالی کر دیے گئے ہیں، جہاں اس وقت پاکستان آرمی قبضہ کر چکی ہے۔ انگور اڈہ کے علاقے میں ہمارے سورس کے مطابق طالبان ڈیورنڈ لائن سے تقریباً 7 کلومیٹر پیچھے ہٹ کر سلیمان زئی کے سول علاقے میں مورچہ بندی کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے افغان آرمی کی تھرڈ بٹالین کا ہیڈ کوارٹر اب پاکستانی فوجیوں کے قبضے میں ہے۔
پاکستانی فوجی اس وقت رادن پوسٹ، اسحاق پوسٹ، کسٹمز کوارٹرز، نیئر پوسٹ، سانگر پوسٹ، ٹنڈے مرغائی پوسٹ اور برمل بازار میں تعینات ہیں۔ افغانستان پر پاکستان کے حملے کے بعد ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوجیوں اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کی خبریں آ رہی ہیں۔
دیکھیے: مذہبی آزادی کی عالمی صورتحال پر امریکی رپورٹ جاری؛ افغانستان اور بھارت میں حالات سنگین قرار