فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں قانونی کارروائیوں کو ‘خلاف ورزی’ قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اسے غیر جانبدارانہ رپورٹ کے بجائے ‘کلوزڈ سرکٹ نیریٹیو’ قرار دے دیا۔

May 2, 2026

پاکستان نے ‘معرکۂ حق’ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ قوم بنیان المرصوص کی مانند متحد ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دہلی سے کلکتہ تک دیا جائے گا۔

May 2, 2026

پاکستان نے الجزیرہ کی جانب سے وزیراعظم آفس کے ذرائع سے منسوب خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوجی فیصلے سے متعلق درخواست کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔

May 2, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد؛ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔

May 2, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے طالبان حکومت کی سفاکیت قرار دے دیا؛ باجوڑ میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہریوں کی شہادت پر گہری تشویش کا اظہار۔

May 2, 2026

پاکستانی فورسز نے ژوب سیکٹر کے مدمقابل افغان سرحد کے اندر 32 مربع کلومیٹر پر مشتمل ‘گڈوانہ انکلیو’ کا کنٹرول حاصل کر لیا، آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل عاطف مجتبیٰ کے دورے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔

May 2, 2026

کابل میں ہسپتال پر حملے کے الزامات؛ پاکستان کی فضائی کاروائی یا طالبان کا پری پلان ایکشن؟

حیران کن طور پر دو دن قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ قندھار میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگلے ہی دن ایک اور ایسے ہسپتال پر حملے اور 400 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دینا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔
کابل میں ہسپتال پر حملے کے الزامات؛ پاکستان کی فضائی کاروائی یا طالبان کا پری پلان ایکشن؟

پاکستانی مؤقف میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف صرف وہ عناصر اور تنصیبات ہیں جو دہشتگردی کی معاونت میں ملوث ہیں، جن میں فتنہ الخوارج اور دیگر گروہ شامل ہیں۔

March 17, 2026

کابل اور ننگرہار میں حالیہ فضائی حملوں کے بعد افغان دارالحکومت میں صورتحال نہ صرف سکیورٹی کے اعتبار سے حساس ہو گئی ہے بلکہ الزامات کی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ مختلف بیانیے سامنے آ رہے ہیں جن میں ایک جانب طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا جس میں متعدد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق، عینی شواہد اور سرکاری مؤقف اس دعوے کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سترہ مارچ دو ہزار چھبیس کو آپریشن “غضب للحق” کے تحت کیے گئے فضائی حملوں میں صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو افغان طالبان کے زیر استعمال عسکری تنصیبات تھیں اور جہاں سے دہشتگرد گروہوں کو معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق کابل میں دو اہم مقامات پر اسلحہ کے ذخائر اور تکنیکی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا، جس کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں بڑی مقدار میں بارود اور اسلحہ موجود تھا۔ اسی طرح ننگرہار میں بھی چار عسکری نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جہاں لاجسٹک اور اسلحہ کے مراکز قائم تھے۔

حیران کن طور پر دو دن قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ قندھار میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگلے ہی دن ایک اور ایسے ہسپتال پر حملے اور 400 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دینا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ یا تو یہ محض الزامات ہیں، یا پھر طالبان کا پہلے سے پلان کیا گیا ایک واقعہ ہے تاکہ الزام پاکستان پر عائد کر کے ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی بڑے شہری مرکز پر حملہ کیا جاتا تو اس کے واضح شواہد اور ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آتیں، جو اس دعوے کو مشکوک بناتی ہیں۔ مزید برآں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز اور مقامی بیانات میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بعض مقامات پر آگ یا نقصان خود طالبان کی جانب سے کیا گیا تاکہ اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر ہمدردی حاصل کی جا سکیں۔

کابل سے آنے والی مختلف ویڈیوز اور رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ شہر کے اندر رائے عامہ منقسم ہے۔ کچھ حلقے پاکستان کے خلاف غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ دیگر افراد ان کارروائیوں کو دہشتگردی کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے مختلف ردعمل دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ تقسیم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغان معاشرہ خود بھی اس صورتحال کو یکساں نظر سے نہیں دیکھ رہا۔

دوسری جانب ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک پشتون مبینہ طور پر اسپتال کو خود طالبان نے آگ لگائی تاکہ منشیات کے عادی افراد سے نجات حاصل کی جا سکے اور اس کا الزام پاکستان پر ڈالا جا سکے۔

پاکستانی مؤقف میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف صرف وہ عناصر اور تنصیبات ہیں جو دہشتگردی کی معاونت میں ملوث ہیں، جن میں فتنہ الخوارج اور دیگر گروہ شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

دیکھیے: کابل کے حساس علاقے میں ٹی ٹی پی قیادت کی پناہ گاہیں، عالمی برادری کے شدید تحفظات

متعلقہ مضامین

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں قانونی کارروائیوں کو ‘خلاف ورزی’ قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اسے غیر جانبدارانہ رپورٹ کے بجائے ‘کلوزڈ سرکٹ نیریٹیو’ قرار دے دیا۔

May 2, 2026

پاکستان نے ‘معرکۂ حق’ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ قوم بنیان المرصوص کی مانند متحد ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دہلی سے کلکتہ تک دیا جائے گا۔

May 2, 2026

پاکستان نے الجزیرہ کی جانب سے وزیراعظم آفس کے ذرائع سے منسوب خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوجی فیصلے سے متعلق درخواست کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔

May 2, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد؛ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔

May 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *