ڈیورنڈ لائن: افغان بیانیے میں تبدیلی، افغانستان کی اہم شخصیات نے پاکستان کی موجودہ سرحدیں تسلیم کر لیں

افغانستان کی معروف سیاسی شخصیات عبدالمنان شیوۂ شرق اور مجیب الرحمٰن رحیمی کا ڈیورنڈ لائن پر تاریخی اعتراف؛ پاکستان کو موجودہ سرحدوں کے ساتھ تسلیم کرنے کا اعلان، محمد محقق کے مؤقف کی تائید اور “پشتونستان” کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔
موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ: صنعتی ترقی کے اثرات پر سنگین سوالات اٹھ گئے

امیر ممالک کی صنعت کاری کا خمیازہ غریب دنیا نے سیلابوں کی صورت میں بھگتا؛ دہائیوں تک ماحولیاتی سائنس کو دانستہ دبانے کا انکشاف، کلائمیٹ چینج کے حل کے لیے اسلامی اصولوں کی اہمیت پر نئی بحث کا آغاز۔
پہلگام: ایک سال، ایک سبق، ایک نئی قوت

پہلگام کے ایک سال بعد کا پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، بااعتماد اور عالمی سطح پر معتبر ہے۔ بھارت نے جس گڑھے کو پاکستان کے لیے کھودا تھا، وہ آج خود اس کی تزویراتی تنہائی کا سبب بن چکا ہے۔ یہ “پاور شفٹ” عارضی نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں پاکستان خطے میں طاقت کا نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔
ڈیورنڈ لائن؛ جذباتیت سے حقیقت پسندی تک کا سفر

ڈیورنڈ لائن پر افغان سیاسی بیانیے میں بڑی تبدیلی؛ اہم افغان شخصیات اور محققین نے ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتے ہوئے ‘پشتونستان’ کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ماہرین کے مطابق خطے کا استحکام جذباتی نعروں کے بجائے جغرافیائی حقیقتوں اور سرحدی احترام میں پوشیدہ ہے۔
پہلگام حملہ: دہشت گردی یا پہلے سے تحریر شدہ سیاسی سکرپٹ؟ ایک سال بعد ابھرتے ہوئے نئے سوالات

بھارتی حکومت نے پہلگام واقعے کو ایک “فالس فلیگ” کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے اور اسے دہشت گردی کے بیانیے میں گھیرنے کی کوشش کی، تاہم یہ حکمت عملی مئی کے “معرکہِ حق” اور پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے باعث ناکام ثابت ہوئی۔
افغانستان سے باجوڑ کے سرحدی علاقے لغڑی پر مارٹر حملے، شہری آبادی نشانہ

پاک افغان سرحد پر کشیدگی؛ افغانستان کے صوبہ کنڑ سے باجوڑ کے سرحدی گاؤں لغڑی پر مارٹر حملوں میں شہری آبادی نشانہ، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات اور مقامی املاک کو نقصان۔
ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے میں توسیع کا اعلان؛ جے ڈی وینس کا دورہ منسوخ ہو گیا

کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘