امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘
امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔‘
شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
اب سے کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر پاکستان خطے میں جاری اس تنازع کے مذاکرات کی مدد سے حل کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘
وزیر اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں امید ظاہر کی کہ ’دونوں فریق جنگ بندی کی پابندی جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع امن معاہدہ طے پانے کی طرف بڑھیں گے، جس کا مقصد تنازع کا مستقل خاتمہ ہے۔‘
جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وینس اس ماہ دوسری مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے تھے اور بدھ کے روز ان کی آمد متوقع تھی۔
وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان اور امن مذاکرات سے متعلق تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کی جائیں گی۔
امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان کی منسوخی کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی پاکستانی درخواست منظور کر لی ہے۔
عراقچی کا ردعمل
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘
ایکس پر جاری ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’کسی تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔‘
اُن کا اپنے پیُام میں مزید کہنا تھا کہ ’ایران جانتا ہے کہ پابندیوں کو کیسے بے اثر کرنا ہے، اپنے مفادات کا کیسے دفاع کرنا ہے اور دباؤ کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔‘
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شمولیت کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا ہے۔
تاہم دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان ایرانی حکام کی جانب سے تاحال جواب کا منتظر ہے۔‘
ایکس پر اپنے پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘