رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور مساوی ترقی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، جس کی 76 فیصد نوجوانوں نے توثیق کر دی ہے۔

September 24, 2026

بی این ایم کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ سے ملاقات کر کے جبری گمشدگیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔

September 24, 2026

موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ: صنعتی ترقی کے اثرات پر سنگین سوالات اٹھ گئے

امیر ممالک کی صنعت کاری کا خمیازہ غریب دنیا نے سیلابوں کی صورت میں بھگتا؛ دہائیوں تک ماحولیاتی سائنس کو دانستہ دبانے کا انکشاف، کلائمیٹ چینج کے حل کے لیے اسلامی اصولوں کی اہمیت پر نئی بحث کا آغاز۔
امیر ممالک کی صنعت کاری کا خمیازہ غریب دنیا نے سیلابوں کی صورت میں بھگتا؛ دہائیوں تک ماحولیاتی سائنس کو دانستہ دبانے کا انکشاف، کلائمیٹ چینج کے حل کے لیے اسلامی اصولوں کی اہمیت پر نئی بحث کا آغاز۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق وہ سائنسی شواہد جو اس تباہی کی پیش گوئی کر سکتے تھے، انہیں جان بوجھ کر دبا دیا گیا۔ الزام ہے کہ ایندھن کی صنعت سے منافع کمانے والی بڑی عالمی کمپنیوں نے اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے ان تحقیقات کو روکنے میں بھاری سرمایہ کاری کی۔

April 22, 2026

عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور غریب ممالک میں آنے والے حالیہ سیلابوں کے تناظر میں ایک نیا اور لرزہ خیز بیانیہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق دنیا کی موجودہ ماحولیاتی تباہی محض ایک قدرتی عمل نہیں بلکہ امیر ممالک کی بے لگام صنعت کاری اور منافع خور کمپنیوں کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے ذریعے دولت کے انبار لگائے، وہیں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تپش اور آلودگی نے غریب ممالک میں تباہ کن سیلابوں اور معاشی بربادی کی راہ ہموار کی۔

سائنسی حقائق کو چھپانے کا انکشاف

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ وہ سائنسی حقائق جو دہائیوں پہلے اس تباہی کی پیش گوئی کر سکتے تھے، انہیں دانستہ طور پر دفن کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ایندھن جلانے سے منافع کمانے والی بڑی عالمی کمپنیوں نے ان سائنسی تحقیقات کو دبانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی تاکہ ان کا کاروبار متاثر نہ ہو۔ یہ عمل محض ایک انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی جرم قرار دیا جا رہا ہے جس کی قیمت آج انسانیت سیلابوں اور قحط کی صورت میں چکا رہی ہے۔

ماحولیاتی تحفظ اور اسلامی اصول

اس بحران کے پائیدار حل کے لیے ماہرین اب اسلامی اصولوں کی جانب رجوع کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق زمین اللہ کی امانت ہے اور انسان اس کا ‘خلیفہ’ یا نگران ہے، جس کی ذمہ داری نظامِ فطرت میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ‘اسراف’ (وسائل کا ضیاع) اور ‘فساد فی الارض’ (فطرت میں بگاڑ) کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا اسلامی اصولوں کے مطابق کفایت شعاری اور فطرت کے احترام کو اپنا لے تو اس موسمیاتی خودکشی سے بچا جا سکتا ہے۔

عالمی برادری کی ذمہ داری

اب وقت آ گیا ہے کہ صنعتی ممالک اپنی تاریخی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان غریب ممالک کے نقصانات کا ازالہ کریں جو ان کی پھیلائی ہوئی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر منافع خوری کے بجائے اخلاقی اور مذہبی اصولوں بالخصوص اسلامی نظامِ عدل کو بنیاد نہ بنایا گیا تو ماحولیاتی توازن کا یہ بگاڑ پوری نسلِ انسانی کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنے گا۔

متعلقہ مضامین

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *