عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور غریب ممالک میں آنے والے حالیہ سیلابوں کے تناظر میں ایک نیا اور لرزہ خیز بیانیہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق دنیا کی موجودہ ماحولیاتی تباہی محض ایک قدرتی عمل نہیں بلکہ امیر ممالک کی بے لگام صنعت کاری اور منافع خور کمپنیوں کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے ذریعے دولت کے انبار لگائے، وہیں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تپش اور آلودگی نے غریب ممالک میں تباہ کن سیلابوں اور معاشی بربادی کی راہ ہموار کی۔
سائنسی حقائق کو چھپانے کا انکشاف
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ وہ سائنسی حقائق جو دہائیوں پہلے اس تباہی کی پیش گوئی کر سکتے تھے، انہیں دانستہ طور پر دفن کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ایندھن جلانے سے منافع کمانے والی بڑی عالمی کمپنیوں نے ان سائنسی تحقیقات کو دبانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی تاکہ ان کا کاروبار متاثر نہ ہو۔ یہ عمل محض ایک انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی جرم قرار دیا جا رہا ہے جس کی قیمت آج انسانیت سیلابوں اور قحط کی صورت میں چکا رہی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ اور اسلامی اصول
اس بحران کے پائیدار حل کے لیے ماہرین اب اسلامی اصولوں کی جانب رجوع کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق زمین اللہ کی امانت ہے اور انسان اس کا ‘خلیفہ’ یا نگران ہے، جس کی ذمہ داری نظامِ فطرت میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ‘اسراف’ (وسائل کا ضیاع) اور ‘فساد فی الارض’ (فطرت میں بگاڑ) کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا اسلامی اصولوں کے مطابق کفایت شعاری اور فطرت کے احترام کو اپنا لے تو اس موسمیاتی خودکشی سے بچا جا سکتا ہے۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
اب وقت آ گیا ہے کہ صنعتی ممالک اپنی تاریخی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان غریب ممالک کے نقصانات کا ازالہ کریں جو ان کی پھیلائی ہوئی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر منافع خوری کے بجائے اخلاقی اور مذہبی اصولوں بالخصوص اسلامی نظامِ عدل کو بنیاد نہ بنایا گیا تو ماحولیاتی توازن کا یہ بگاڑ پوری نسلِ انسانی کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنے گا۔