وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے چیئرمین عمران خان پر الزامات عائد کیے ہیں کہ وہ ریاستی اداروں اور مخالف سیاسی قوتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے منظم اور منصوبہ بند حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی روایت رہی ہے کہ وہ گرفتاری کو اغوا قرار دے کر عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا؛”یہ بیانیہ سازی کی ایک اعلی مثال ہے، جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بدنام کرنا ہے”۔
عظمٰی بخاری کے مطابق عمران خان اپنے مقدمات میں قانونی کارروائی سے گریز کرتے رہے ہیں۔ ان پر اور ان کی اہلیہ پر توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیسز میں مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات ہیں۔ ان کا کہنا تھا؛”عدالتوں نے انہیں اپیل کا پورا موقع دیا، اور بعض مقدمات میں سزائیں بھی معطل ہوئیں”۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان کو جیل میں غیرمعمولی سہولیات دی گئی ہیں جن میں سات سیلز پر مشتمل کمپلیکس، واک کے لیے راہداری، ٹی وی، ایکسرسائز سائیکل، اخبار اور کتابیں شامل ہیں—جو کسی بھی عام قیدی کو دستیاب نہیں ہوتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان مسلسل ملکی اور بین الاقوامی میڈیا سے رابطے میں ہیں۔ “انہوں نے قید کے دوران 413 مرتبہ ایکس پر پیغامات دیے، متعدد انٹرویوز بھی دیے اور اہم سیاسی معاملات پر پارٹی کو ہدایات جاری کیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے بیانات گزشتہ 12 ماہ میں 45 سے زائد بار قومی اخبارات کی شہ سرخیوں کا حصہ بنے، جبکہ انہیں بین الاقوامی سے بھی انٹرویوز کا موقع ملا—جو کسی سزا یافتہ شخص کے لیے غیرمعمولی ہے۔
عظمٰی بخاری نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان سے جیل میں پارٹی رہنما، وکلاء اور خاندان کے افراد ملاقات کرتے رہے ہیں، جس کے باعث وہ اندر سے پارٹی قیادت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ “قانونی احتساب کو سیاسی مظلومیت میں تبدیل کرنا انصاف کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے”، انہوں نے خبردار کیا۔
دیکھیں: عمران خان کو جیل میں خصوصی سہولیات اور قانونی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، حکام کا مؤقف