ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے والے 260 ہلاک افغان شدت پسندوں کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے۔

October 1, 2026

گورنر راج اور ایمرجنسی دو الگ آئینی اقدامات ہیں، جن کی شرائط اور طریقۂ کار بھی مختلف ہیں۔

October 1, 2026

لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو گھر میں قتل کر دیا گیا

لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا
لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا

حملہ آور چار نقاب پوش افراد تھے جو واقعے کے بعد فرار ہوگئے

February 4, 2026

لیبیا کے سابق رہنماء کرنل معمر قذافی کے فرزند اور سیاسی جانشین سیف الاسلام قذافی کو انکی رہائش گاہ پر مسلح حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ خاندانی ذرائع اور مقامی میڈیا کے مطابق چار نقاب پوش مسلح افراد نے گھر میں داخل ہو کر 53 سالہ سیف الاسلام پر فائرنگ کی۔ حملہ آوروں نے گھیراؤ سے پہلے ہی عمارت کے تمام سکیورٹی کیمرے ناکارہ کردیے تھے، تاکہ اُن کی شناخت ظاہر نہ ہوسکے۔ اطلاعات کے مطابق سیف الاسلام نے حملے کے دوران مزاحمت کی لیکن شدید زخمی ہونے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملے کے دوران اُن کے بیٹے کو بھی زخم آئے ہیں۔

خیال رہے کہ سیف الاسلام قذافی ایک متنازع اور طاقتور سیاسی شخصیت تھے، جو کئی سال سے زنتان شہر میں مقیم تھے اور قومی بحالی کے دعوؤں کے ساتھ دوبارہ سیاسی منظرنامے پر ابھرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ انہوں نے 2021 میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن انتخابات کی غیرمعینہ مدت تک کے لیے التواء نے اُن کی سیاسی واپسی کو روک دیا تھا۔

قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ سیف الاسلام قذافی کو زنتان کے قریب قتل کردیا گیا ہے۔

رسمی توثیق اور ردعمل
سیف الاسلام کے مشیر عبداللہ عثمان اور خاندانی وکیل خالد الزیدی نے اُن کی موت کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ لیبیائی سرکاری خبررساں ایجنسی لانا اور مقامی میڈیا ادارے فواصل نے واقعے کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آور حملے کے فوراً بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

فوری تحقیقات اور مطالبات
واقعے کے بعد زنتان میں سکیورٹی اداروں نے علاقے کو سیل کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ قذافی خاندان نے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقتول کی لاش قانونی پوسٹ مارٹم کے لیے فراہم کی جائے اور واقعے کے تمام ثبوت محفوظ کرلیے جائیں۔ ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی پس منظر
سیف الاسلام قذافی 2011 میں اپنے والد معمر قذافی کے قتل کے بعد قابض افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے اور 2017 میں ایک عام معافی کے تحت رہا ہوئے تھے۔ لیبیا، جو کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام اور مسلح گروہوں کے مابین کشمکش کا شکار ہے، کے لیے یہ واقعہ ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ قتل نہ صرف لیبیا کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، بلکہ ملک کی پہلے سے نازک سلامتی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

دیکھیے: بدعنوانی کا عمومی تصور مگر حقیقی تجربات کم: سروے میں 73 شہریوں نے رشوت نہ دینے کی تصدیق کردی

متعلقہ مضامین

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *