افغانستان میں ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں نافذ نئے تعزیری قانون نے مخالفین کے قتل کے گیارہ قانونی اسباب واضح کیے ہیں، جس میں سزائے موت کا نفاذ صرف امیر طالبان کی صوابدید سے ممکن ہے۔ یہ قانون ریاستی نظام کو ادارہ جاتی شکل سے ہٹا کر شخصی کنٹرول کے تابع کرتا ہے اور انسانی حقوق، عدالتی شفافیت اور مذہبی آزادی کے لیے شدید خطرہ ہے

February 4, 2026

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا

February 4, 2026

کیا کسی کو گبریلا ریکو نام کی لڑکی یاد ہے؟ 21 سالہ اس لڑکی نے سب سے پہلے اس شیطانیت کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ لوگ بچوں سے جنسی جرائم ہی نہیں کرتے یہ بچوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ کہا گیا اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے غائب کر دیا گیا۔

February 4, 2026

28 جنوری کے روز یاسین کا 18 سالہ بیٹا تابش گنائی اپنے بڑے بھائی دانش گنائی کے ہمراہ شالوں کی گٹھڑی لے کر شملہ کی قریبی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادُون اس اُمید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ والد کے وہاں پہنچنے پر وہ اچھی کمائی کر چکے ہوں گے۔

February 4, 2026

لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا

February 4, 2026

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔

February 4, 2026

انسانی ہمدردی یا سیاسی مفاد؟ افغانوں کی ری سیٹلمنٹ میں پاکستان اور جرمنی کا کردار

پاکستان نے دہائیوں تک ان کے لیے دروازے کھلے رکھے، لیکن عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنے وعدے نبھائے
جرمنی افغان مہاجرین

جرمنی افغان مہاجرین کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا۔ پاکستان لاکھوں پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے ہے، جبکہ برلن دوہری پالیسی پر چل رہا ہے۔

August 23, 2025

ہندوکش کی فضاؤں سے وابستہ افغان عوام کی ہجرت اورمختلف ممالک میں پناہ گزینی کی کہانی آج ایک نئے موڑ پر ہے۔ پاکستان سے 211 افغان باشندوں کی ملک بدری پر جرمنی نے تشویش کا اظہار کیا ہے مگر اسی جرمنی نے 2025 کے انتخابات کے بعد اپنا “انسانی ہمدردی پروگرام” معطل کر کے ہزاروں افغانوں کو پاکستان اور افغانستان میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔

وعدے اور انحراف

جرمنی کی سابقہ حکومت نے نیٹو اور امریکی آپریشنز سے وابستہ 2000 افغانوں کی دوبارہ آبادکاری کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن نئی قیادت نے نہ صرف اس وعدے کو نظرانداز کیا بلکہ انسانی ہمدردی پروگرام کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا۔ اس اقدام کو ناقدین ایک “غیراعلانیہ پابندی” قرار دے رہے ہیں۔

دوہرا معیار اور حقیقت

پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ جرمنی اور یورپ کے کئی ممالک خود افغانوں کو معمولی امیگریشن خلاف ورزیوں پر واپس افغانستان بھیج چکے ہیں جبکہ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرات کے باوجود لاکھوں افغانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ یہ طرزِ عمل اس تضاد کو واضح کرتا ہے جسے پاکستان نے کئی بار عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے: مغرب بیانات اور وعدے تو کرتا ہے، مگر عملی اقدامات اکثر ان کے برعکس ہوتے ہیں۔

پاکستان کا بوجھ اور عالمی ذمہ داریاں

گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ صرف حالیہ برسوں میں تین بار ملک بدری کی ڈیڈ لائنز عالمی برادری کی درخواست پر بڑھائی گئیں۔ لیکن بین الاقوامی تعاون، خاص طور پر مغربی دنیا سے، الفاظ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ پاکستان سیکیورٹی خدشات اور معاشی دباؤ کے درمیان پھنسا ہوا ہے، جبکہ مغرب بوجھ بانٹنے کے بجائے دباؤ ڈالنے میں مصروف ہے۔

انسانی ہمدردی کے دعوؤں کا امتحان

یہ معاملہ محض پناہ گزینوں کا نہیں بلکہ عالمی اخلاقیات اور ذمہ داریوں کا امتحان ہے۔ اگر یورپ اور بالخصوص جرمنی واقعی انسانی ہمدردی کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہوں گے۔ پاکستان کے اقدامات پر تنقید تب ہی بامعنی ہو سکتی ہے جب مغرب خود اپنے بیانات اور پالیسیوں میں یکسانیت اور شفافیت لائے۔

افغان مہاجرین ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پناہ گزین صرف اعداد و شمار اور سیاست کا سامان نہیں نہیں بلکہ اپنے وطن کے دور بس رہے انسان ہیں، جن کے خواب، خاندان اور مستقبل ہیں۔ پاکستان نے دہائیوں تک ان کے لیے دروازے کھلے رکھے، لیکن عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنے وعدے نبھائے۔ ورنہ عالمی نظام، جس کی بنیاد انصاف اور یکجہتی پر ہونی چاہیے، محض بیانات کا پلندہ بن کر رہ جائے گا۔

دیکھیں: جرمنی کا افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے دوہرا معیار بے نقاب ہوگیا

متعلقہ مضامین

افغانستان میں ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں نافذ نئے تعزیری قانون نے مخالفین کے قتل کے گیارہ قانونی اسباب واضح کیے ہیں، جس میں سزائے موت کا نفاذ صرف امیر طالبان کی صوابدید سے ممکن ہے۔ یہ قانون ریاستی نظام کو ادارہ جاتی شکل سے ہٹا کر شخصی کنٹرول کے تابع کرتا ہے اور انسانی حقوق، عدالتی شفافیت اور مذہبی آزادی کے لیے شدید خطرہ ہے

February 4, 2026

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا

February 4, 2026

کیا کسی کو گبریلا ریکو نام کی لڑکی یاد ہے؟ 21 سالہ اس لڑکی نے سب سے پہلے اس شیطانیت کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ لوگ بچوں سے جنسی جرائم ہی نہیں کرتے یہ بچوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ کہا گیا اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے غائب کر دیا گیا۔

February 4, 2026

28 جنوری کے روز یاسین کا 18 سالہ بیٹا تابش گنائی اپنے بڑے بھائی دانش گنائی کے ہمراہ شالوں کی گٹھڑی لے کر شملہ کی قریبی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادُون اس اُمید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ والد کے وہاں پہنچنے پر وہ اچھی کمائی کر چکے ہوں گے۔

February 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *