ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

امریکی محکمہ دفاع کا نام بدل کر محکمہ جنگ رکھنے کی منظوری دے دی گئی

انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے یہ ایک زیادہ مناسب نام ہے، خاص طور پر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ دنیا اس وقت کہاں کھڑی ہے، ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے‘۔
امریکی محکمہ دفاع کا نام بدل کر محکمہ جنگ رکھنے کی منظوری دے دی گئی

محکمہ جنگ کو سب سے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے فوج کی بنیاد رکھتے وقت قائم کیا تھا، لیکن 1949 میں اس کا نام باضابطہ طور پر بدل دیا گیا تھا۔

September 7, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع) کا نیا نام ڈپارٹمنٹ آف وار (محکمہ جنگ) رکھنے کی منظوری دے دی۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر یہ زیادہ ’مناسب‘ نام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے یہ ایک زیادہ مناسب نام ہے، خاص طور پر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ دنیا اس وقت کہاں کھڑی ہے، ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے‘۔

ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق وزیر دفاع، محکمہ دفاع اور اس کے ماتحت حکام اب ثانوی القابات مثلاً وزیر جنگ، محکمہ جنگ اور نائب وزیر جنگ کو سرکاری خط و کتابت، عوامی پیغامات، تقریبات اور غیر قانونی دستاویزات میں استعمال کر سکیں گے۔

اس فیصلے پر فوراً عملدرآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔

پینٹاگون حکام نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دفتر کے باہر لگے بورڈ کو بدل دیا اور محکمے کی ویب سائٹ کو بھی نیا نام دے دیا گیا ہے۔

صدر کے ساتھ اوول آفس میں موجود پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ صرف نام بدلنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ’بحالی‘ ہے، ان کے مطابق فوج اب صرف دفاع نہیں بلکہ حملہ بھی کرے گی، اور نئے نام کی عکاسی سے یہ ظاہر ہوگا کہ ملک دفاعی اہلکار نہیں بلکہ جنگجوؤں کو تیار کرے گا۔

ایگزیکٹو آرڈر میں دیگر وفاقی اداروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اندرونی و بیرونی رابطوں میں ان نئے القابات کو تسلیم کریں اور پیٹ ہیگستھ صدر کو سفارش کریں کہ مستقل طور پر محکمہ دفاع کا نام محکمہ جنگ میں تبدیل کرنے کے لیے مزید انتظامی یا قانون سازی کے اقدامات کیے جائیں۔

اگرچہ دستاویز میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی، لیکن صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں پُر یقین نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم، لیکن ہم پتا کر لیں گے اور مجھے یقین نہیں کہ یہ لازمی ہے۔

امریکا کے محکمہ دفاع کا نام آخری بار 1949 میں بدلا گیا تھا جب صدر ہیری ٹرومین نے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ پر دستخط کیے تھے، اس سے قبل محکمہ جنگ کو محکمہ بحریہ اور نئے قائم ہونے والے محکمہ فضائیہ کے ساتھ ضم کر کے نیشنل ملٹری اسٹیبلشمنٹ بنایا گیا تھا، جسے بعد میں ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس کا نام دے دیا گیا تھا۔

محکمہ جنگ کو سب سے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے فوج کی بنیاد رکھتے وقت قائم کیا تھا، لیکن 1949 میں اس کا نام باضابطہ طور پر بدل دیا گیا تھا۔

پیٹ ہیگستھ اس سے قبل بھی کئی اقدامات کر چکے ہیں، جن میں فوجی اڈوں اور جہازوں کے نام دوبارہ رکھنا شامل ہے۔

انہوں نے بائیڈن دور میں بدلے گئے کنفیڈریٹ دور کے فوجی اڈوں (جیسے فورٹ بریگ اور فورٹ ہوڈ) کے نام بحال کیے، اگرچہ اب ان کے لیے وہی نام رکھنے والے مختلف افراد کو منتخب کیا گیا۔

جون میں پیٹ ہیگستھ نے ایک آئلر جہاز کا نام بھی بدلنے کا حکم دیا جو اصل میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکن اور بحریہ کے سابق فوجی ہاروی مِلک کے نام پر رکھا گیا تھا۔

دیکھیں: امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان میں انسانی حقوق پر رپورٹ – حکومتی مؤقف سامنے آ گیا

متعلقہ مضامین

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *