حیدرآباد کنگزمین کی جانب سے فاسٹ بولر حنین شاہ نے آخری اوور میں 6 رنز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا۔

May 1, 2026

سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

May 1, 2026

ہم نے ایران سے بات چیت کی ہے لیکن حالات ٹھیک نظر نہیں آ رہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں اس پیشرفت سے خوش نہیں ہوں

May 1, 2026

افغانستان کے کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، جبکہ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی سے اس محبت کی بھاری قیمت افغان عوام کو اپنی معیشت، وقار اور مستقبل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔

May 1, 2026

جب پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے پاس پہلے سے ہی کافی دفاعی ہتھیار موجود ہیں، تو پھر اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی کیا ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت دراصل پوری دنیا کو اپنے نشانے پر لانا چاہتا ہے

May 1, 2026

طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نظریاتی قید خانہ بنا دیا ہے، جہاں شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

May 1, 2026

گنڈا پور کا ’’نو آپریشن‘‘ مؤقف، دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ؟

تجزیہ کاروں کے مطابق گنڈا پور کا یہ بیان قومی سلامتی کے مسئلے کو سیاسی نعرے بازی میں بدلنے کے مترادف ہے، جو طالبان نواز بیانیے کو تقویت دیتا ہے اور اس سے براہِ راست فائدہ پاکستان دشمن قوتوں کو پہنچتا ہے۔
گنڈا پور کا ’’نو آپریشن‘‘ مؤقف، دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کوئی اختیاری پالیسی نہیں بلکہ پاکستان پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت لازم ہے کہ وہ کالعدم گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔

September 28, 2025

پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ’’ہم کسی بھی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کے حق میں ہیں، کیونکہ ہم پہلے ہی دہشت گردی کی جنگ میں 80 ہزار جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔‘‘

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ مؤقف طالبان کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتا ہے۔ ماضی میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدے، چاہے وہ 2004، 2009، 2014 یا 2021–22 ہوں، بالآخر ناکام ثابت ہوئے اور شدت پسندوں نے ان وقفوں کو ازسرنو منظم ہونے کے لیے استعمال کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 سے 2025 کے درمیان ٹی ٹی پی نے خیبر پختونخوا میں سینکڑوں حملے کیے جن میں عام شہری، پولیس اہلکار اور فوجی جوان نشانہ بنے۔ آزادانہ رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ گروہ افغان پناہ گاہوں سے منظم ہو کر سرحد پار کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کوئی اختیاری پالیسی نہیں بلکہ پاکستان پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت لازم ہے کہ وہ کالعدم گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔

ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں پی ٹی آئی حکومتوں نے ’’مصالحت‘‘ کے نام پر طالبان کو جگہ دی، جس سے صوبے کی سکیورٹی مزید خراب ہوئی۔ عوامی رائے واضح ہے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اسکولوں پر حملوں سے تحفظ چاہتے ہیں، نہ کہ شدت پسندوں کو رعایت۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گنڈا پور کا یہ بیان قومی سلامتی کے مسئلے کو سیاسی نعرے بازی میں بدلنے کے مترادف ہے، جو طالبان نواز بیانیے کو تقویت دیتا ہے اور اس سے براہِ راست فائدہ پاکستان دشمن قوتوں کو پہنچتا ہے۔

دیکھیں: وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا وادی تیراہ کا دورہ، متاثرین سے تعزیت

متعلقہ مضامین

حیدرآباد کنگزمین کی جانب سے فاسٹ بولر حنین شاہ نے آخری اوور میں 6 رنز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا۔

May 1, 2026

سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

May 1, 2026

ہم نے ایران سے بات چیت کی ہے لیکن حالات ٹھیک نظر نہیں آ رہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں اس پیشرفت سے خوش نہیں ہوں

May 1, 2026

افغانستان کے کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، جبکہ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی سے اس محبت کی بھاری قیمت افغان عوام کو اپنی معیشت، وقار اور مستقبل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *