پی ایس ایل گیارہ ایڈیشن میں پہلی بار 8 ٹیمیں حصہ لیں گی جبکہ مجموعی طور پر 44 میچز کھیلے جائیں گے

March 17, 2026

وزارت اطلاعات کے مطابق یہ تصویر دراصل افغان طالبان کی وزارت داخلہ کی جانب سے ماضی میں جاری کی گئی تھی اور اسے موجودہ واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا

March 17, 2026

ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا، جبکہ یہ جنگ مبینہ طور پر اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔

March 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں پر دنیا بھر میں حیرت پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی، اس بارے میں پیشگوئی ممکن نہیں

March 17, 2026

چین خطے کی صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ امدادی اقدامات کے ذریعے بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مدد دی جائے گی۔

March 17, 2026

اگر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں تو کابل میں کھلے میدان میں 500 تابوت رکھ کر دنیا کو دکھایا جانا چاہیے تھا

March 17, 2026

خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی اور سہیل آفریدی کی ذمہ داریاں

اسی ہفتے پاکستان نے سرحدی راستے، بشمول ٹورخم اور چمن، بند کر دیے۔ یہ اقدام افغان فوج کے مبینہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور پختہ شدہ اشتعال کے ردِعمل میں کیا گیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان علاقے سے ملنے والی سہولتوں نے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو آسان بنایا ہے۔
خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی اور سہیل آفریدی کی ذمہ داریاں

سرحدی علاقوں میں دشمن کے ٹھکانوں اور عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد میں اضافے نے صوبائی حکومت کی ذمہ داری کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

October 15, 2025

حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر خونریز جھڑپوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف اندرونی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر جڑا ہوا ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی گمبھیر صورتِ حال، صوبائی حکومت کی کمزور کارکردگی اور افغان علاقے استعمال کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کا تعاون، یہ تمام عوامل مل کر عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ایک حالیہ واقعہ تحصیل کُرم میں پیش آیا جہاں افغان فورسز اور پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پاکستانی میڈیا رپورٹ کرتا ہے کہ افغان فورسز اور ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے پاکستان کے سرحدی ٹھکانے بغیر اشتعال کے نشانہ بنائے۔ پاکستان نے جواباً افغان ٹینکس اور چند اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور ایک مبینہ ٹی ٹی پی تربیتی مرکز بھی تباہ کیا گیا۔

اسی ہفتے پاکستان نے سرحدی راستے، بشمول ٹورخم اور چمن، بند کر دیے۔ یہ اقدام افغان فوج کے مبینہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور پختہ شدہ اشتعال کے ردِعمل میں کیا گیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان علاقے سے ملنے والی سہولتوں نے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو آسان بنایا ہے۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اور دیگر سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ ٹی ٹی پی کے حملے پاکستان میں گزشتہ ایک سال میں 600 سے زائد ہوچکے ہیں، جن میں سے بہت سے افغان سرحدی علاقوں پر مبنی آپریشنز ہیں۔ افغان طالبان حکومت مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کو مالی، لاجسٹک اور تربیتی معاونت فراہم کرتی ہے۔

سرحدی علاقوں میں دشمن کے ٹھکانوں اور عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد میں اضافے نے صوبائی حکومت کی ذمہ داری کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عوام پوچھ رہی ہے کہ کیا سی ٹی ڈی لیبارٹریاں ایسی حالت میں فعال ہیں کہ دہشت گردوں کے ٹھوس شواہد حاصل کیے جائیں؟ کتنے ملزمان نے سزا پائی ہے؟ کتنے سہولت کار اور سیاسی پشت پناہ پکڑے گئے ہیں؟ فوجی کارروائیوں کے باوجود دہشت گردی کی دوبارہ اور مسلسل واپسی کیا بتاتی ہے؟ یہ ثابت کرتی ہے کہ محض فوجی طاقت کافی نہیں، بلکہ ثابت شواہد، بھرپور انٹیلی جنس، سرحد کے انتظام اور مقامی عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔

پختونخوا کی حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف فری بیانات دے بلکہ اعداد و شمار، پالیسیاں، اور شفاف رپورٹ عوام کے سامنے لائے۔ دہشت گردی صرف بندوق کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی نظم، قانونی انصاف اور سرکاری زمہ داریوں کی ذمہ دارانہ ادائیگی کا بھی معاملہ ہے۔ اگر ریاست چاہتی ہے کہ عوام پر خوف نہ رہے، تب جا کر عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کیا جائے گا۔

ایسی قیادت ضروری ہے جو نہ صرف جنگی حکمتِ عملیاں طے کرے بلکہ امن اور اقتصادی ترقی کے مواقع بھی فراہم کرے—کیونکہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان وہ ہے جو عام آدمی اٹھائے، اور امن کے بغیر مشرقی خیبر پختونخوا کی شاندار ترقی محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔

دیکھیں: سہیل آفریدی جواب دیں — عوام کے سخت سوالات

متعلقہ مضامین

پی ایس ایل گیارہ ایڈیشن میں پہلی بار 8 ٹیمیں حصہ لیں گی جبکہ مجموعی طور پر 44 میچز کھیلے جائیں گے

March 17, 2026

وزارت اطلاعات کے مطابق یہ تصویر دراصل افغان طالبان کی وزارت داخلہ کی جانب سے ماضی میں جاری کی گئی تھی اور اسے موجودہ واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا

March 17, 2026

ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا، جبکہ یہ جنگ مبینہ طور پر اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔

March 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں پر دنیا بھر میں حیرت پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی، اس بارے میں پیشگوئی ممکن نہیں

March 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *