بونڈائی حملہ؛ اسرائیلی اور بھارتی میڈیا کی حملہ آور کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش ناکام

حکام کے مطابق یہ ایک زیرِ تفتیش معاملہ ہے، اور جیسے ہی مستند معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں سرکاری طور پر جاری کیا جائے گا۔ اس مرحلے پر کسی فرد، قومیت یا مذہب کو بغیر تصدیق کے حملے سے جوڑنا نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
بونڈائی حملہ؛ اسرائیلی اور بھارتی میڈیا کی حملہ آور کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش ناکام

حملے کے فوراً بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بھارتی اور اسرائیلی مین اسٹریم میڈیا کی جانب سے اس واقعے کو ایک مبینہ پاکستانی شہری “نوید اکرم” سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

December 14, 2025

سڈنی کے بونڈائی بیچ پر دہشت گرد حملے کے بعد حملہ آور کی شناخت سے متعلق غلط معلومات اور سوشل میڈیا مہمات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں، جنہیں آسٹریلوی حکام نے تاحال مستند قرار نہیں دیا۔

حملے کے فوراً بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بھارتی اور اسرائیلی مین اسٹریم میڈیا کی جانب سے اس واقعے کو ایک مبینہ پاکستانی شہری “نوید اکرم” سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اس دعوے کے حق میں اب تک کوئی سرکاری یا تفتیشی ثبوت سامنے نہیں آیا، اور آسٹریلوی پولیس یا دیگر حکام نے کسی بھی فرد کی شناخت باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویر، جسے مبینہ حملہ آور “نوید اکرم” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، دراصل ایک باڈی بلڈر کی تصویر ہے جو صحت مند نظر آتا ہے۔ اسی تصویر کے حوالے سے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک فرد، شیخ نوید (ہوم ٹاؤن: لاہور)، نے فیس بک پر وضاحت جاری کی ہے کہ ان کی تصویر کو غلط طور پر اس واقعے سے جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس جعلی اور گمراہ کن مواد کو رپورٹ کیا جائے اور اس کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے۔

دوسری جانب، آسٹریلوی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور اور اسلحہ چھین کر مزید جانی نقصان کو روکنے والا شہری، دونوں مسلمان ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کو “نوید اکرم” جبکہ حملہ آور کو قابو کرنے والے شخص کو “احمد الحمد” کے نام سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ رپورٹس بھی سرکاری تصدیق سے محروم ہیں اور انہیں حتمی شناخت نہیں کہا جا سکتا۔

آسٹریلوی حکام نے واضح کیا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور متاثرہ خاندانوں کو اطلاع دینے کے عمل کے باعث حملہ آوروں کی شناخت فی الحال عوام کے سامنے نہیں لائی جا رہی۔ پولیس نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ معلومات، تصاویر اور ناموں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

کچھ غیر تصدیق شدہ اطلاعات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور کا تعلق لبنان سے ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی باضابطہ بیان یا ثبوت سامنے نہیں آیا۔

حکام کے مطابق یہ ایک زیرِ تفتیش معاملہ ہے، اور جیسے ہی مستند معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں سرکاری طور پر جاری کیا جائے گا۔ اس مرحلے پر کسی فرد، قومیت یا مذہب کو بغیر تصدیق کے حملے سے جوڑنا نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھیں: پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں افغان طالبان اور القاعدہ براہِ راست ملوث، این آر ایف

متعلقہ مضامین

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

November 4, 2026

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *