پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں شروع، 3 نکاتی ایجنڈے پر گفتگو

افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں شروع، 3 نکاتی ایجنڈے پر گفتگو

پاکستانی وفد میں سات اراکین شامل ہیں، جن میں انٹیلیجنس، سکیورٹی اور بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر پاکستانی نمائندوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

October 25, 2025

پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کے دوسرے دور کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات قطر اور ترکیہ کی مشترکہ ثالثی میں ہو رہے ہیں اور ان کا مقصد حالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد ابھرنے والی نازک جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تین نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کی جا رہی ہے، جس میں سرحدی تحفظ، تجارتی گزرگاہوں کی بحالی اور انٹیلی جنس تعاون شامل ہیں۔

افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔ وفد میں سہیل شاہین، انس حقانی، وزارتِ خارجہ کے سیاسی امور کے ڈائریکٹر نور احمد نور، وزارتِ دفاع کے نائب نورالرحمان نصرت اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کندھاری قیادت نے اس بار ایک چھوٹا اور زیادہ منظم وفد تشکیل دیا ہے، جبکہ جی ڈی آئی کے سربراہ عبد الحق وثیق کو شامل نہیں کیا گیا۔

پاکستانی وفد میں سات اراکین شامل ہیں، جن میں انٹیلیجنس، سکیورٹی اور بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر پاکستانی نمائندوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے شریک دو کلیدی ارکان کا تعلق عسکری اداروں سے ہے۔

واضح رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں منعقد ہوا تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر بظاہر عمل درآمد جاری ہے، تاہم چودہ دن گزرنے کے باوجود طورخم، اسپن بولدک، شمالی و جنوبی وزیرستان اور کرم کی تجارتی گزرگاہیں تاحال بند ہیں، جس سے تجارت اور نقل و حمل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

استنبول مذاکرات کو تجزیہ کار ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بگڑتے تعلقات میں اعتماد سازی کی سمت ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

دیکھیں: دوحہ مذاکرات کامیاب؛ پاکستان اور افغانستان کا فوری جنگ بندی اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے پر اتفاق

متعلقہ مضامین

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *