طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

October 3, 2026

غاصبانہ قبضے کے 78 سال: دہائیوں کی مزاحمت اور عالمی بے حسی

ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق، مقبوضہ کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فی کس فوجی اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعیناتی ہے۔
غاصبانہ قبضے کے 78 سال: دہائیوں کی مزاحمت اور عالمی بے حسی

ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق، مقبوضہ کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فی کس فوجی اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعیناتی ہے۔

October 27, 2025

جنوبی ایشیا کی تاریخ کا وہ سیاہ دن جب بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں اتاریں۔ اس غاصبانہ قبضے کو آج 78 برس مکمل ہوگئے ہیں، مگر کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی بدستور جاری ہے۔ دنیا بھر میں آج یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے اور اقوامِ متحدہ کو اُس وعدے کی یاد دلائی جائے جو اُس نے کشمیری عوام سے سات دہائیاں قبل کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں 47 (1948)، 51، 80 اور 122 میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ایک آزاد اور غیر جانب دار استصوابِ رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔ لیکن بھارت نے نہ صرف ان قراردادوں کو مسترد کیا بلکہ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35اے ختم کر کے وادی کی خصوصی حیثیت بھی چھین لی۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس کے مطابق، 2019 کے بعد سے اب تک 8,000 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار، 600 سے زائد صحافیوں کو ہراساں اور 2,300 سے زیادہ گھروں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق، مقبوضہ کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فی کس فوجی اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعیناتی ہے۔ ہر 12 کشمیریوں پر ایک بھارتی سپاہی تعینات ہے۔ صرف 2024 میں، 199 جعلی مقابلوں اور 150 سے زیادہ جبری گمشدگیوں کی تصدیق انسانی حقوق کی تنظیموں نے کی۔

صدر آصف علی زرداری نے اس دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ “جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔” وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کی یکطرفہ کارروائیوں کا مقصد “آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کر کے کشمیریوں کو اقلیت بنانا” ہے۔

عالمی سطح پر بھارتی قبضے کے خلاف ردعمل محدود مگر بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین پارلیمنٹ نے 2023 میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قرارداد منظور کی۔ او آئی سی نے حالیہ اجلاس میں بھارتی اقدامات کو “بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی” قرار دیا۔

لیکن افسوس، عالمی ضمیر اب بھی مکمل طور پر بیدار نہیں۔ 78 سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو وہ حق نہیں ملا جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا تھا۔

کشمیر کی جدوجہد اب صرف جغرافیے کی نہیں بلکہ انصاف، شناخت اور انسانیت کی بقا کی جنگ ہے اور جب تک ظلم کے خلاف یہ عزم قائم ہے، تب تک یہ امید قائم ہے کہ آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔

دیکھیں: وزارتِ امور کشمیر کا 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *