طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

October 3, 2026

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

October 3, 2026

استنبول مذاکرات کا تیسرا دور جاری، فریقین حتمی معاہدے کے قریب

ایچ ٹی این کے باخبر ذرائع کے مطابق مذکورہ معاہدہ دس نکاتی فریم ورک پر مشتمل ہے جس کا اعلان آج شام تک متوقع ہے
ایچ ٹی این کے باخبر ذرائع کے مطابق مذکورہ معاہدہ دس نکاتی فریم ورک پر مشتمل ہے جس کا اعلان آج شام تک متوقع ہے

ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے ایچ ٹی این کو بتایا کہ اسلام آباد نے واضح انداز میں کہا ہے کہ تحریری ضمانتوں کے بغیر کوئی بھی مفاہمت محض علامتی و رسمی حیثیت تک ہی رہے گی۔

October 27, 2025

پاکستان اور افغانستان کے مابین استنبول میں جاری مذاکرات کے تیسرے دور میں فریقین استنبول معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ایچ ٹی این کے باخبر ذرائع کے مطابق مذکورہ معاہدہ دس نکاتی فریم ورک پر مشتمل ہے جس کا اعلان آج شام تک متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے 13 گھنٹے طویل اجلاس میں فریقین نے معاہدے کے بنیادی ڈھانچے پر اتفاق کر لیا، تاہم طالبان وفد دستخط کے معاملے میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ طالبان نمائندوں نے ان شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جن میں تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی کے خاتمے کا واضح طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔

:ایچ ٹی این کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق استنبول معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں

افغان سرزمین کسی بھی گروہ بشمول ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، کے ذریعے پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
افغانستان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں میں بھرتی یا تنظیم سازی کے عمل کو روکا جائے گا۔
پاکستان، افغانستان، قطر اور ترکی پر مشتمل ایک مشترکہ انٹیلی جنس میکنزم قائم کیا جائے گا جو ممکنہ خلاف ورزیوں کی کڑی نگرانی کرے گا، جبکہ قطر اور ترکی بطورِ ضامن کے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اسی طرح دیگر شقوں میں سلامتی کے معاملے میں باہمی تعاون اور اعتماد سازی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے ایچ ٹی این کو بتایا کہ اسلام آباد نے واضح انداز میں کہا ہے کہ تحریری ضمانتوں کے بغیر کوئی بھی مفاہمت محض علامتی و رسمی حیثیت تک ہی رہے گی۔ جبکہ دوسری جانب مذاکرات میں موجود طالبان وفد زبانی یقین دہانی تک محدود ہے۔ طالبان وفد کا مؤقف ہے کہ اعتماد دستخطوں سے پہلے ہونا چاہیے۔

ایچ ٹی این کے مطابق حتمی معاہدہ تاحال زیرِ غور ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان اسی وقت کیا جائے گا جب طالبان وفد پاکستان کی تحریری ضمانتوں کے مطالبے کو تسلیم کر لے گا۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی؛ ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

متعلقہ مضامین

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

October 3, 2026

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

October 3, 2026

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

October 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *