مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے وابستہ بعض زخمی افراد کو بھی کابل کے فوجی اسپتال، جسے اردو نظامی اسپتال کہا جاتا ہے، منتقل کیا گیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں طالبان کے بارڈر گارڈز کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوجی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

February 24, 2026

یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ، جہاں اگر قبضہ کر بھی لیا جائے تو برقراررکھنا مشکل ہے کیونکہ ایک طویل سپلائی لائن بنانا پڑے گی۔ اس کی غیر معمولی حساسیت کی ایک وجہ چینی سرحد سے متصل ہونا بھی ہے۔ چین اس بارے میں بہت حساس اور اس حوالے سے معمولی سی بے چینی یا اضطراب بھی برداشت نہیں کر پائے گا۔

February 24, 2026

ذرائع کے مطابق فوری جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر افغان پوسٹوں کو “خاموش” کرا دیا گیا۔ تاہم جانی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

February 24, 2026

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ چند ہفتے قبل معالج ٹیم نے عمران خان کے ذاتی معالجین کو باضابطہ کانفرنس کال کے ذریعے بریفنگ دی تھی، جس میں کسی سپرا اسپیشلائزیشن کی عدم موجودگی پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔ اس پس منظر میں حالیہ عوامی بیانات کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔

February 24, 2026

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن ( یوناما) کی حالیہ رپورٹ کو دفاعی ماہرین نے حقائق سے بعید اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کو نظرانداز کر کے یکطرفہ بیانیہ اپنایا گیا ہے

February 24, 2026

مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتیار میں بھارتی فوج نے تین مقامی نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور ثبوت مٹانے کے لیے ان کے اجسام کو کیمیکلز سے جلا ڈالا

February 24, 2026

سی ٹی ڈی کا باجوڑ میں کامیاب آپریشن، ٹی ٹی پی کا سابق نائب امیر مفتی مزاحم ہلاک

ٹی ٹی پی کے نائب امیر مفتی مزاحم باجوڑ کے کامیاب آپریشن میں ہلاک، نومبر 2022 میں امریکی عدالت نے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا
ٹی ٹی پی کے نائب امیر مفتی مزاحم باجوڑ کے کامیاب آپریشن میں ہلاک، نومبر 2022 میں امریکی عدالت نے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نائب امیر مفتی مزاحم کی ہلاکت ٹی ٹی پی کے شمالی گروہ کے لیے شدید نقصان کا باعث ہے

October 30, 2025

باجوڑ: پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کاروائی کرتے ہوئے ماموند ضلع باجوڑ میں ٹی ٹی پی کے سابق نائب امیر اور دفاعی ونگ کے سربراہ مفتی مزاحم کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں انکا ایک ساتھی بھی مارا گیا۔

خیال رہے کہ مفتی مزاحم جو قاری امجد سواتی کے نام سے معروف ہیں جنہیں دو سال قبل نومبر 2022 میں امریکی عدالت نے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ وہ ٹی ٹی پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے اور انہوں نے افغان طالبان کی مرکزی شخصیت ملّا ہیبت اللہ اخوندزادہ سے بیعت بھی کی تھی۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق مفتی مزاحم کی ہلاکت ٹی ٹی پی کے شمالی گروہ کے لیے شدید نقصان کا باعث ہے۔ تجزیہ کار انہیں گزشتہ چار سالوں کے دوران ٹی ٹی پی کی اہم کارروائیوں کا مرکزی کردار قرار دے رہے ہیں۔

نائب امیر مفتی مزاحم المعروف قاری امجد علی سواتی

ٹی ٹی پی کے نائب امیر مفتی مزاحم کے خلاف یہ آپریشن اس وقت کیا گیا ہے جب پاک افغان استنبول میں مذاکرات ناکام ہوئے تو اسی روز ٹی ٹی پی نے دہشت گردانہ کاروائی کرتے ہوئے ملکی سرحدات کے محافظوں کو شہید کیا۔ جواباً سیکیورٹی اداروں نے امن و امن کو برقرار اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کاروائی کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے مرکزی نائب امیر مفتی مزاحم ہلاک کردیا۔ یاد رہے کہ استنبول مذاکرات ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں اور سیکیورٹی مسائل کے سلسلے میں تھے۔

ٹی ٹی پی کے نائب امیر مفتی مزاحم کی ہلاکت کو ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہےسیکیورٹی ماہرین کے مطابق مفتی مزاحم کی ہلاکت سے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں واضح طور پر کمی واقع ہوگی۔

دیکھا جائے تو گزشتہ چند سالوں میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کاروائیوں میں ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر مارے گئےجن میں سرفہرست عمر خالد خراسانی، مفتی حسن سواتی، شیخ خالد حقانی سمیت اہم نام ہیں انکی ہلاکت اور حالیہ کارروائی میں نائب امیر مفتی مزاحم کی ہلاکت نے ٹی ٹی پی کو مزید کمزور کردیا ہے۔


ماہرین کے مطابق مفتی مزاحم کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کی کاروائیوں میں واضح طور پر کمی دیکھنے کو ملے گی کیونکہ مفتی مزاحم کاروائیوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور تشکیلات اور قیادت کرنے میں ماہر تھے لیکن اب مفتی مزاحم کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے شمالی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے اثر و رسوخ، حملوں میں کمی، اسی طرح تحریکِ طالبان پاکستان کے اندرونی اختلافات بھی مزید بڑھ سکتے ہیں۔

دیکھیں: سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کامیاب کارروائی، 8 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے وابستہ بعض زخمی افراد کو بھی کابل کے فوجی اسپتال، جسے اردو نظامی اسپتال کہا جاتا ہے، منتقل کیا گیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں طالبان کے بارڈر گارڈز کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوجی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

February 24, 2026

یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ، جہاں اگر قبضہ کر بھی لیا جائے تو برقراررکھنا مشکل ہے کیونکہ ایک طویل سپلائی لائن بنانا پڑے گی۔ اس کی غیر معمولی حساسیت کی ایک وجہ چینی سرحد سے متصل ہونا بھی ہے۔ چین اس بارے میں بہت حساس اور اس حوالے سے معمولی سی بے چینی یا اضطراب بھی برداشت نہیں کر پائے گا۔

February 24, 2026

ذرائع کے مطابق فوری جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر افغان پوسٹوں کو “خاموش” کرا دیا گیا۔ تاہم جانی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

February 24, 2026

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ چند ہفتے قبل معالج ٹیم نے عمران خان کے ذاتی معالجین کو باضابطہ کانفرنس کال کے ذریعے بریفنگ دی تھی، جس میں کسی سپرا اسپیشلائزیشن کی عدم موجودگی پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔ اس پس منظر میں حالیہ عوامی بیانات کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔

February 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *