امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

September 25, 2026

بھارت۔ اسرائیل دفاعی معاہدہ؛ طالبان حکومت کا بھارت کی جانب بڑھتا جھکاؤ

بھارتی وزیر دفاع کی تل ابیب میں اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے معاہدے پر دستخط
بھارتی وزیر دفاع کی تل ابیب میں اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے معاہدے پر دستخط

بھارتی وزیر دفاع راجیش کمار سنگھ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیٹس سے ہاتھ ملا رہے ہیں

November 6, 2025

بھارت اور اسرائیل دونوں ممالک نے ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جدید اسلحہ، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں باہمی تعاون کیا جائے گا۔ اسرائیل نے بھارت کو خطے کی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت قرار دیتے ہوئے طویل مدتی تزویراتی تعاون پر زور دیا ہے۔

تل ابیب میں منعقدہ اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راجیش کمار سنگھ اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیٹس نے دفاعی پالیسی کے دائرہ کار کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ترقی، پیداوار اور تحقیق کے شعبے میں نجی اور سرکاری سطح پر تعاون بڑھایا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار نے کہا تھا کہ بھارت کو عالمی سپر پاور کے طور پر دیکھتے ہوئے دونوں ممالک کو مستقبل کے لیے دفاعی شراکت داری کو آگے بڑھانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، انٹیلیجنس شیئرنگ اور علاقائی امن وسلامتی کے مسائل زیر بحث آئے۔

پاکستان۔ سعودی دفاعی معاہدہ

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان اور سعودی عرب نے 17 ستمبر کو دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے، جس سے دفاعی تعاون میں مضبوطی آئی۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو مسلم دنیا میں دوبارہ مرکزی سیکیورٹی کردار میں لاتی ہے اور علاقائی اسٹریٹجک حرکیات کو تبدیل کر رہی ہے۔

کابل کا جھکاؤ اور سفارتی خدشات

پاکس سعودی معاہدے کے بعد افغان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی کا دورہ کیا۔ اس دوران جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا۔ پاکستان نے اس بیان کو سفارتی ذمہ داری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے افغان سفیر کو اسلام آباد طلب کیا۔ اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ افغان طالبان حکومت غیر منصفانہ مقاصد کے پیچھے چل پڑے ہیں، جس سے پاکستان میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان کی سرگرمیاں اور کابل کا ًحارت کی جانب جھکاؤ، ایک مضبوط ریاست کے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کی جانب سے فوجی پیداوار، انٹیلیجنس شیئرنگ اور جدید ہتھیاروں میں تعاون بڑھانے کے ساتھ، افغان حکام بھارت کے موقف کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں۔

دیکھیں: طالبان کے اندرونی مسائل اور مالی مفادات نے استنبول مذاکرات کو لگ بھگ ناکام بنا دیا

متعلقہ مضامین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *