کابل سے آنے والے حالیہ بیانات نے پاک افغان تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کے وزیر برائے سرحدی و قبائلی امور نے پاکستان کے وزیرِ دفاع کو براہِ راست دھمکی دی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کے بعض وزرا نہ صرف اسلام آباد کے خلاف جارحانہ بیانات دے رہے ہیں بلکہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے ماہرین میں خدشات پیدا کیے ہیں کہ کہیں سرحدی فوجی نقل و حرکت یا پراکسی جنگ میں اضافہ نہ ہو جائے۔
پاکستانی حکام کے مطابق افغان حکومت کے چند نچلے درجے کے وزرا غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ان ہی افسران کے رویے کے باعث استنبول مذاکرات کے آخری مرحلے میں افغان وفد نے ایک بار پھر ٹھوس اقدامات سے انکار کر دیا، جس سے امن مذاکرات ناکامی کا شکار ہوئے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات افغانستان کے استحکام میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ صرف بھارت کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں، جو ہمیشہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے میں مصروف رہتا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس کا مؤقف نہ صرف شفاف بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں ختم کی جائیں، ان کے رہنماؤں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے اور تحریری یقین دہانی دی جائے کہ مستقبل میں ایسے حملے نہیں ہوں گے۔ حکام کے مطابق یہ مطالبہ کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی انسدادِ دہشت گردی فریم ورک کے عین مطابق ہے۔
دوسری جانب بھارت اس تمام صورتحال میں اپنے پرانے کھیل کو دہرا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت نہ تو افغان عوام سے ہمدردی رکھتا ہے اور نہ ہی اسے امن کی کوئی فکر ہے، بلکہ اس کی اصل دلچسپی پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنے میں ہے۔ بھارتی میڈیا ہر چھوٹے واقعے پر شور مچا دیتا ہے اور پاکستان پر الزامات عائد کرتا ہے، جبکہ خود اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ پاکستان ہزاروں فوجی اور شہری جانوں کی قربانی دے چکا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف اس کے عملی کردار کا ثبوت ہے۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ اور امریکی ادارے سگار کی حالیہ رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بدستور موجود ہیں۔ اس کے باوجود بھارت پاکستان پر انگلی اٹھاتا ہے، جو اس کے دوہرے معیار اور منافقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ پاکستان نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ اپنے عوام اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا، خواہ اس سے بھارت یا اس کے حامی ممالک کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو۔
دیکھیں: دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا؛ پاک افغان استنبول مذاکرات ناکام ہو گئے