دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے مثبت اشاروں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تو پاک افغان تعلقات ایک نئے اور بہتر دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔

January 15, 2026

پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے اعلان کردہ ریلیف اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی افراتفری یا عدم استحکام کو پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔

January 15, 2026

دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

January 15, 2026

امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

January 15, 2026

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔

January 15, 2026

رپورٹس کے مطابق یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں پر لاگو ہوگی، جبکہ سیاحتی، کاروباری اور طالبعلم ویزے اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

January 15, 2026

طالبان کے مہاجرین سے متعلق دعوے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا

پاکستان نے طالبان کے مہاجرین سے متعلق دعوے مسترد کر دیے، سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے جنگجوؤں کی حوالگی کا مطالبہ
پاکستان نے طالبان کے مہاجرین سے متعلق دعوے مسترد کر دیے، سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے جنگجوؤں کی حوالگی کا مطالبہ

طالبان امدادی مرکز کی حفاظت کرتے ہوئے اور افغانستان کے ضلع گیاں میں زلزلے کے بچ جانے والے افراد کو ہدایات دیتے ہوئے۔ 24 جون 2022۔ دی نیو یارک ٹائمز

November 10, 2025

پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی کے شدت پسند و دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغان حکومت نے ان خاندانوں کے لیے زمین اور رہائشی سہولیات فراہم کی ہیں جو افغانستان منتقل ہوئے اور یہ کہ “کسی کو بھی اپنے حقوق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بے گھر افراد کی دیکھ بھال کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشنز اور کمیٹیاں اب بھی فعال ہیں اور افغانستان مزید مہاجرین کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کے بقول وہ قبائلی خاندان جو فی الحال افغانستان میں مقیم ہیں طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی وہاں آباد ہو چکے تھے۔

تاہم پاکستانی حکام نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے برعکس حالیہ برسوں میں پاکستان سے افغانستان جانے والے عام شہری نہیں بلکہ تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ شدت پسند ہیں۔
استنبول مذاکرات کے دوران دیے گئے اسی نوعیت کے بیانات پر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مؤقف بے بنیاد ہے اور سوال اٹھایا کہ آخر یہ کیسے پناہ گزینوں کی واپسی ہے جس میں لوگ بھاری اسلحے سے لیس ہو کر واپس جا رہے ہیں؟
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مبینہ “پناہ گزین” عام بسوں یا گاڑیوں میں نہیں بلکہ پہاڑی درّوں اور دشوار گزار راستوں سے خفیہ طور پر داخل ہوتے ہیں جو طالبان حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویّے کو ظاہر کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد کے یہ بیان بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ مسلح دہشت گردوں کو عام مہاجرین کے طور پر پیش کیا جائے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ریاستِ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے کمانڈروں کو گرفتار کیا جائے تاکہ سرحد پار حملوں کو روکا جا سکے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کا اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کی ذمہ داری لینے سے انکار ہی پاک۔ افغان کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ طالبان کو غلط بیانیوں کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور ان شدت پسندوں کو پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے خطرے کو کم کیا جا سکے اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات میں تعطل، اختلافات بدستور برقرار

متعلقہ مضامین

دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے مثبت اشاروں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تو پاک افغان تعلقات ایک نئے اور بہتر دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔

January 15, 2026

پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے اعلان کردہ ریلیف اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی افراتفری یا عدم استحکام کو پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔

January 15, 2026

دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

January 15, 2026

امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

January 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *