افغانستان اور ازبکستان نے گزشتہ روز ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ جسکے تحت دونوں ممالک کے مابین زمینی و ہوائی کوریڈور قائم کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو عالمی منڈیوں بشمول یورپ تک رسائی کے لیے پاکستان کا متبادل تجارتی راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کا باضابطہ اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے آئندہ کسی بھی اہم اجلاس میں عوام کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ تمام تر تجارتی سرگرمیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ افغانستان کو پاکستان پر انحصار کم کرنے میں اور اسے عالمی تجارتی راستوں تک براہ راست رسائی فراہم کرے گا۔
دونوں ممالک کے اس اقدام کو خطے میں تجارت اور معیشت کے لحاظ سے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نیا رُخ دے گا۔
دوسری جانب افغانستان نے ازبک زبان میں لکھے گئے مختلف سائن بورڈز کو تبدیل کروا دیا ہے اور ماہرین نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق افغانستان نے تمام تشہیری مقامات سے ازبک زبان ہٹانے کا حکم دیاہے۔