آزاد کشمیر کی سیاست ایک بار پھر شدید ہلچل کی لپیٹ میں ہے۔ چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی اور راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا نئے وزیراعظم کے طور پر انتخاب بظاہر ایک سیاسی تبدیلی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ایسے کمزور سیاسی ڈھانچے کی علامت ہے جو برسوں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہاں حکومتیں اس قدر نازک بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں کہ معمولی سیاسی جھٹکا بھی انہیں گرا دیتا ہے۔ غیر مستحکم اکثریت، گروہی تقسیم اور اسمبلی کے اندر بدلتی ہوئی صف بندیاں اس عدم استحکام کو مزید بڑھاتی ہیں۔
اس پس منظر میں جموں و کشمیر ایکشن کمیٹی ایک فیصلہ کن عنصر کے طور پر ابھری ہے۔ گزشتہ مہینوں میں بجلی کے نرخ، ٹیکسوں اور عوامی حقوق کے حوالے سے کمیٹی کی تحریک نے نہ صرف حکومت کو شدید دباؤ میں رکھا بلکہ حکومتی رٹ کو بھی کمزور کیا۔ اس تحریک نے یہ واضح کردیا کہ عوامی مطالبات کو نظرانداز کرکے کوئی بھی حکومت اپنے اقتدار کے تسلسل کی امید نہیں رکھ سکتی۔ یہی دباؤ اب نئی حکومت کے سر پر بھی موجود ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا کردار بھی انتہائی معنی خیز ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی عوام میں اپنے مطالبات مانگنے کا حوصلہ ضرور پیدا کیا ہے مگر ان کے احتجاج پرامن نہیں رہے۔ مطالبات کی آڑ میں پرتشدد مظاہروں کو ہوا دی گئی جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں نے بھی اپنی جانیں گنوائیں۔
فیصل ممتاز راٹھور کے لیے سب سے اہم امتحان یہی ہے کہ وہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر کس حد تک عملدرآمد کرتے ہیں اور انہیں کس حد تک قانون کے دائرے میں لانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر نئی حکومت بھی عوامی مطالبات کو پسِ پشت ڈالتی ہے تو ایک نئی احتجاجی لہر کا آغاز محض وقت کی بات ہوگی۔
اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد ایک معیاری سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، جو سیاسی ہوا کا رخ بدلتے ہی استعمال ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومتیں ٹکاؤ سے محروم اور سیاسی استحکام ایک مسلسل خواب بن کر رہ گیا ہے۔ انوار الحق کا جانا اور راٹھور کا آنا اصل مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ خطہ کب ایک ایسے سیاسی نظام کی تشکیل کرے گا جہاں حکومتیں چند ماہ کی مہمان نہ ہوں؟
جب تک جماعتی وفاداریاں، ذاتی مفادات اور مرکزی سیاست کا اثر پارلیمانی اصولوں سے بالاتر رہتا ہے، آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کا امکان دھندلا ہی رہے گا۔ تبدیلیٔ حکومت نہیں، تبدیلیٔ نظام وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
دیکھیں: جموں و کشمیر کو وسطی ایشیا کا دروازہ بنایا جائے، ایل او سی راستے کھولے جائیں: محبوبہ مفتی