مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔

April 12, 2026

قالیباف نے پاکستان کی میزبانی اور مذاکراتی عمل کو آسان بنانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ شرکت کی، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔

April 12, 2026

شہید ہونے والوں میں نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمیر شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی کو ساحل سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ حکام نے اس واقعے کو “زمین سے سمندر کی جانب فائرنگ” قرار دیا ہے۔

April 12, 2026

ان کے انتقال پر مداحوں اور شوبز شخصیات کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارتی موسیقی کی تاریخ میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

April 12, 2026

امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کو لمحہ بہ لمحہ سرخیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق یہ عمل میڈیا کوریج کیلئے نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے، اور پاکستان نے بطور میزبان ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

بنیادی تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جہاں امریکہ ایران سے مکمل یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ نہ صرف جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا بلکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت بھی ختم کرے گا

April 12, 2026

عزیزی کا دورہ دہلی: طالبان کی معاشی پالیسی تضادات کا شکار

دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔
عزیزی کا دورہ دہلی: بھارت اور ایران کے درمیان کابل کی نازک توازن پالیسی ایک نئے امتحان سے گزر رہی ہے

اگرچہ بھارت کے ساتھ برادر کے پرانے روابط اور دہلی کے حق میں جھکاؤ پر ماہرین گفتگو کرتے رہے ہیں، مگر عملی طور پر بھارت کو افغانستان کے لیے وہ جغرافیائی سہولت حاصل نہیں جو پاکستان یا ایران کے پاس ہے۔

November 19, 2025

افغان وزیرِ صنعت و تجارت نورالدین عزیزی کا بھارت کا اہم دورہ، جس کا مقصد پاکستان سے ہٹ کر تجارتی راستوں کو ’’متنوع‘‘ بنانا اور دہلی کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانا ہے، بظاہر سفارتی اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کا سیاسی تاثر اس کی اصل معاشی حقیقتوں پر حاوی ہو چکا ہے۔ عزیزی، جو قندہاری پس منظر اور امارت کے معاشی حلقے میں خاص اثر رکھتے ہیں، ایک ایسے وقت میں دہلی پہنچے ہیں جب چند ہی ہفتے پہلے ملا عبدالغنی برادر نے پاکستان کے خلاف اب تک کا سخت ترین معاشی بیان دیتے ہوئے تاجروں کو حکم دیا کہ تجارت پاکستان سے ہٹا کر ایران، بھارت اور وسطی ایشیا کی طرف منتقل کی جائے۔ اس بیانیے نے کابل کی علاقائی اقتصادی سمت کا نیا خاکہ پیش کیا مگر عملی حقائق اس سے کہیں مختلف ہیں۔

عزیزی کا یہ دورہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب وہ 15 نومبر کو ایران کے صوبہ سیستان–بلوچستان میں ایران–افغانستان مشترکہ اقتصادی کمیشن میں بھی شریک ہوئے، جبکہ 11 نومبر کو طالبان کے مقرر کردہ گورنر فرح بھی ایران کے ساتھ تجارتی بات چیت کے لیے تہران جا چکے تھے۔ یہ سلسلہ ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط کا عکاس ہے—ایسے وقت میں جب ایران نے روس، چین اور خطے کے دیگر ممالک کو دسمبر میں ایک اہم علاقائی اجلاس کے لیے مدعو کیا ہے تاکہ پاکستان–افغانستان بحران پر نیا فریم ورک تشکیل دیا جاسکے۔ عزیزی کا اسی وقت دہلی میں موجود ہونا ایک سفارتی مسابقت کا پہلو بھی پیدا کرتا ہے، جسے کابل نظرانداز نہیں کرسکتا۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کابل بظاہر بھارت کے ساتھ قربت بڑھا رہا ہے لیکن عملی طور پر تجارت کے لیے اسے ایران کے راستوں پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی نے روایتی راستوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

سیاسی دعوے اور معاشی حقیقتیں

اکتوبر, نومبر میں طورخم، چمن اور خرلاچی کی بندشوں نے سالانہ 1.8 بلین ڈالر کی تجارت کو منجمد کر دیا ہے۔ ہندوکش ٹریبیون نیٹ ورک کی معلومات کے مطابق 11 ہزار سے زائد کنٹینرز پاکستان–افغانستان بارڈر اور کراچی پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں، جن میں وسطی ایشیائی سامان بھی شامل ہے۔ درجنوں سبزی و پھل کے کنٹینرز خراب ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے راستے کا خرچ اوسطاً 1500 ڈالر فی کنٹینر ہے اور سفر 3–5 دن میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایران–چابہار راستہ 2000 ڈالر اور 10–15 دن، جبکہ شمالی راستے 3000 ڈالر اور 20–30 دن لیتے ہیں۔ یو اے ای کے ذریعے ری ایکسپورٹ لاگت 4000 ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ جاتی ہے۔

کابل کی ’’تنوع‘‘ والی پالیسی میں جوش تو ہے مگر حساب کتاب کہتا ہے کہ اس کا بوجھ افغان تاجروں پر ناقابلِ برداشت ہے۔ سرحدی بندشوں کا سب سے بڑا نقصان بھی افغان عوام اور ملکی خزانے نے اٹھایا ہے—افغانستان کی تقریباً 70 فیصد کسٹم آمدن پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے آتی ہے، جو آخری سہ ماہی میں 25–30 فیصد تک گر چکی ہے۔

برادر کا سخت مؤقف اور زمینی حقیقت

ملا برادر کے 12 نومبر کے سخت بیانات نے پاکستان–افغانستان تعلقات میں نیا تناؤ پیدا کیا۔ اگرچہ بھارت کے ساتھ برادر کے پرانے روابط اور دہلی کے حق میں جھکاؤ پر ماہرین گفتگو کرتے رہے ہیں، مگر عملی طور پر بھارت کو افغانستان کے لیے وہ جغرافیائی سہولت حاصل نہیں جو پاکستان یا ایران کے پاس ہے۔ بھارت کی پیشکشیں جیسا کہ زرعی تحقیقاتی مرکز یا نرم قوت کے منصوبے—سیاسی طور پر موثر تو ہیں مگر زمینی تجارت کا متبادل نہیں۔

دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔

تجارتی حلقوں کا عملی نقطۂ نظر

پاک–افغان مشترکہ چیمبر کے خان جان الکوزئی کے مطابق

“کراچی اور طورخم ہی افغانوں کے لیے بہترین آپشن ہیں۔ تجارت چلنی وہیں ہے۔ اگر یہ بند رہیں تو پھر مجبوراً دوسرے راستے دیکھنے پڑیں گے۔”

افغان تجارتی حلقوں کا اندازہ ہے کہ ہر روز تقریباً دس لاکھ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ ادویات، خوراک، تعمیراتی سامان اور ایندھن جیسے بنیادی شعبوں میں متبادل راستوں کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ مکمل شفٹ معاشی طور پر ناممکن ہے۔

ایئر کوریڈورز صرف زعفران اور چلغوزے جیسے مہنگے و ہلکے وزن والے سامان کے لیے موزوں ہیں، اور پورے افغان تجارتی حجم کا صرف 1–3 فیصد برداشت کر سکتے ہیں۔

افغان عوام پر بوجھ

بازاروں میں قیمتیں 20 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ڈیزل امپورٹس میں 40 فیصد کی کمی آئی ہے۔ جلال آباد، قندہار اور خوست کے بازاروں میں دکاندار مہنگے نرخوں اور کمزور خریداری کے دباؤ میں پس رہے ہیں۔

پاکستان کی 400 ارب ڈالر سے زیادہ کی معیشت کے پاس بیس متبادل راستے ہیں۔ افغانستان کے پاس نہیں۔ یہی بنیادی فرق پورے بحران کا فیصلہ کن عنصر ہے۔

حقیقت اور وہم

بھارت کی جانب جھکاؤ کابل کو وقتی سفارتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن عملی طور پر تجارت پاکستان کے بغیر مکمل نہیں چل سکتی۔ بھارت اور ایران دونوں افغانستان کے لیے اہم ہیں، مگر کوئی بھی پاکستان کی جغرافیائی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔

طالبان قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ افغانستان نئی معاشی راہیں تراش سکتا ہے، مگر خود افغان تاجر سوال کرتے ہیں:
اگر بھارت ایک کلو افغان برآمدات پر ایک ڈالر چارج کرتا ہے اور بدلے میں افغان تاجر کو آدھا ڈالر بھی نہیں مل پاتا، تو یہ تجارت افغان معیشت کا بوجھ کیسے اٹھائے گی؟

افغانستان کا معاشی نقشہ نعرے نہیں بدل سکتے۔
پاکستان کچھ عرصہ افغان ٹرانزٹ کے بغیر رہ سکتا ہے
افغانستان پاکستان کے بغیر نہیں۔

اور دہلی کا یہ دورہ بھی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

دیکھیں: افغانستان کی اقوام متحدہ میں نمائندگی اور افغان طالبان کی عالمی حمایت سے محرومی

متعلقہ مضامین

مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔

April 12, 2026

قالیباف نے پاکستان کی میزبانی اور مذاکراتی عمل کو آسان بنانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ شرکت کی، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔

April 12, 2026

شہید ہونے والوں میں نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمیر شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی کو ساحل سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ حکام نے اس واقعے کو “زمین سے سمندر کی جانب فائرنگ” قرار دیا ہے۔

April 12, 2026

ان کے انتقال پر مداحوں اور شوبز شخصیات کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارتی موسیقی کی تاریخ میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

April 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *