واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 36 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانی کی صورتحال ہے۔

January 13, 2026

ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

January 13, 2026

دستاویزات کے مطابق طالبان اراکین نے کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا میں شہریوں اور سابق حکومتی اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی قتل اور اغواء میں حصہ لیا

January 13, 2026

سابق پارلیمانی رکن نے لڑکیوں کے اسکول بند رکھنے کی پالیسی کو قومی شناخت پر حملہ قرار دیا، ’’جنگجو سردار‘‘ کے بیانیے پر بھی تنقید

January 13, 2026

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔

January 13, 2026

قندوز میں مبینہ فوجداری واقعے کے نام پر صحافیہ اور چار دیگر خواتین کو حراست میں لیا گیا، میڈیا کی آزادی پر نئے سوالات

January 13, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ امن منصوبے کو منظوری دے دی، پاکستان کی حمایت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو منظور کر لیا، پاکستان سمیت 13 ممالک نے حمایت کی جبکہ روس اور چین ووٹنگ کے موقع پر غیر حاضر رہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو منظور کر لیا، پاکستان سمیت 13 ممالک نے حمایت کی جبکہ روس اور چین ووٹنگ کے موقع پر غیر حاضر رہے

حماس نے قرارداد کو فلسطینی خودارادیت اور غزہ کے داخلی امور میں مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیا

November 19, 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کو منظور کر لیا ہے۔ پیش کی گئی قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیے جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے موقع پر غیر حاضر رہے۔ قرارداد کے مطابق امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات میں مرکزی کردارادا کرے گا تاکہ قیامِ امن ممکن ہوسکے اور فریقین خوشحالی کے ساتھ رہ سکیں۔

غزہ میں پیس کونسل قائم

قرارداد کے مطابق غزہ میں کام کرنے والے ادارے اس کمیٹی کے تحت کام کریں گے۔ اور ایک پیس کونسل قائم کی جائے گی اور اس کمیٹی کے لیے باقاعدہ فینڈز کیے جائیں گے جو فنڈز پیس کونسل کو فعال رکھنے اور حکومتی معاونت کے لیے ہونگے۔

اسرائیلی فوج کا انخلا

اسی طرح قرارداد میں اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلے گی جب تک کہ بین الاقوامی استحکام فورس اپنا کنٹرول قائم نہیں کر لیتی اور قیامِ امن کی راہ ہموار نہیں ہوجاتی۔ قراردار کے متن کے مطابق اسرائیلی فوج کے انخلا کے مراحل اور اوقات کو حماس کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔

اسرائیلی ردعمل

قرارداد کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی ذرائع نے فلسطینی ریاست کے قیام سمیت دیگر دفعات کو مسترد کیاہے۔ مزید یہ کہ غزہ سے انخلا صرف اسی صورت میں ہوگا جب اسرائیل کو مکمل یقین ہو جائے کہ ہمارے خلاف کوئی میدان میں نہیں آئے گا۔

حماس کا رد عمل

عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو مجروح کرتی ہے اور غزہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔ نیز اس قسم کے منصوبوں سے اہل غزہ کے حقوق بھی متاثر ہوں گے۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اس قراردار کے حق ووٹ دینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حمایت کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کا تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کی بحالی ہے۔ عاصم افتخار نے مزید کہا کہ ہم نے یہ ووٹ فلسطینی بھائیوں کے قتل عام کو روکنے اور اسرائیلی فوجوں کے مکمل انخلا کو یقینی بنانے کے لیے دیا ہے۔

انہوں نے مزید تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا روزِ اول سے مؤقف واضح رہا ہے کہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور فلسطین کو مکمل ریاستی حیثیت کو تسلیم کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی قسم کے علاقائی الحاق یا جبری نقل مکانی قبول نہیں کی جائے گی۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے مزید کہا کہ ان کی حمایت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کے درمیان جغرافیائی رابطہ یقینی بنایا جائے گا اور فلسطینی عوام کو مکمل حقوق اور آزدی دی جائے گی۔

قرارداد کے تحت غزہ میں ایک بورڈ آف پیس قائم کرتے ہوئے بین الاقوامی استحکام فوج بھی تشکیل دی جائے گی جو خطے میں امن وامان کی ذمہ دار ہوگی۔ تاہم پاکستان نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مذکورہ اقدامات سے فلسطینی عوام کے حقوق متاثر نہیں ہونگے۔ پاکستان کی اس قرارداد کی حمایت درحقیقت خطے کے قیام امن کا واضح ثبوت ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے حقوق کے ساتھ ساتھ خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کا ردعمل

اسی طرح سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے مذکورہ قرارداد کو امن کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔ تاہم فلسطینی تنظیم حماس نے قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے حقوق کے مطابق نہیں۔

دیکھیں: امریکی ثالث جیرڈ کُشنر کی نیتن یاہو سے ملاقات۔ غزہ جنگ بندی معاہدے پر گفتگو

متعلقہ مضامین

واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 36 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانی کی صورتحال ہے۔

January 13, 2026

ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

January 13, 2026

دستاویزات کے مطابق طالبان اراکین نے کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا میں شہریوں اور سابق حکومتی اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی قتل اور اغواء میں حصہ لیا

January 13, 2026

سابق پارلیمانی رکن نے لڑکیوں کے اسکول بند رکھنے کی پالیسی کو قومی شناخت پر حملہ قرار دیا، ’’جنگجو سردار‘‘ کے بیانیے پر بھی تنقید

January 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *