بھارت میں زمین کی ملکیت اور اس کی تقسیم ہمیشہ سے سماجی، معاشی اور مذہبی عدم مساوات کی آئینہ دار رہی ہے، مگر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ریاستی سطح پر زمینوں کی ضبطی اور جائیداد سے محرومی ایک منظم عمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ 1949 سے 1970 کے درمیان سب سے سنگین مثال اتر پردیش میں دیکھی گئی، جہاں سرکاری ریکارڈ کے مطابق تقریباً 53 لاکھ 77 ہزار 800 ایکڑ (21,763 مربع کلومیٹر) مسلمان زمینداروں کی نجی ملکیت چھین کر ہندو آبادی میں تقسیم کر دی گئی۔
یہ زمین کی ضبطی نہ کسی عسکری مہم کا حصہ تھی، نہ کسی عدالتی فیصلے کا؛ بلکہ ریاستی فیصلوں، قانونی موشگافیوں اور انتظامی اقدامات کی ایک طویل سلسلہ وار کارروائی تھی، جس نے لاکھوں مسلم خاندانوں کو یک لخت زمین سے محروم کر دیا۔ مختلف رپورٹس اور تحقیق بتاتی ہیں کہ اسی نوعیت کی زمین ضبطیوں اور آبادیاتی تبدیلیوں کا عمل بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی نظر آتا ہے، اگرچہ وہاں کے اعداد و شمار مکمل طور پر دستیاب نہیں۔
وقف املاک: تاریخی ناانصافیوں کا تسلسل
وقت کے ساتھ یہ عمل رکا نہیں بلکہ دوسری شکلوں میں جاری رہا۔ آج بھارت میں وقف کی املاک جو مسلمانوں کی اجتماعی فلاح و بہبود کا ذریعہ ہوتی ہیں شدید دباؤ اور تنازعات کا شکار ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 39 لاکھ ایکڑ (15,780 مربع کلومیٹر) وقف زمین موجود ہے، جو بھارت کے کل رقبے کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہے۔ وقف بورڈ کے مطابق ملک بھر میں 8.72 لاکھ وقف جائیدادیں رجسٹرڈ ہیں جن میں صرف اتر پردیش میں 2.17 لاکھ شامل ہیں۔
ان میں سے تقریباً 13 ہزار 200 املاک اس وقت مختلف عدالتوں میں مقدمات کی زد میں ہیں، جن میں سرکاری قبضے، سیاسی اثرورسوخ اور طاقتور طبقوں کی مداخلت جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ قانونی تنازعات اور قبضہ گیری کے باعث مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
زمین کی ملکیت میں سنگین تفاوت
بھارت میں زمین کی ملکیت کا فرق مسلمانوں کے معاشی کمزور ہونے کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ تازہ سروے بتاتے ہیں کہ تقریباً 48 فیصد مسلمان ایک ایکڑ سے بھی کم زمین کے مالک ہیں، جبکہ ہندو آبادی میں یہ شرح 26 فیصد سے بھی کم ہے۔ زمین کی اس عدم مساوات نے غربت، بے روزگاری، کمزور تعلیمی مواقع اور معاشرتی پس ماندگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری ادارے، ہندو نجی ٹرسٹ اور بڑے سرمایہ دار وسیع رقبوں کے مالک ہیں۔
خود حکومتِ ہند کے پاس 1.55 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد زمین ہے، جبکہ ہندو مذہبی اداروں کے پاس ملک کے بڑے اور قیمتی ترین قطعات موجود ہیں۔
عیسائی اداروں کی زمینیں اور تنازعات
مسیحی ادارے، خصوصاً کیتھولک چرچ، بھی وسیع زمین کے دعویدار ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق ان کے پاس 7 کروڑ ہیکٹر (تقریباً 17 کروڑ ایکڑ) تک زمین موجود ہے، جس کی مالیت 20 ہزار کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے، اگرچہ ان اعداد و شمار پر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔
کئی چرچ پراپرٹیز بھی اس وقت قانونی تنازعات کا حصہ ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتوں کی زمینیں بھی مختلف دباؤ اور ریاستی پیچیدگیوں کی زد میں رہتی ہیں۔
معاشی محرومی اور مذہبی شناخت کا کمزور ہونا
انیس سو انچاس سے 2025 تک پھیلا یہ پورا منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ بھارت میں زمین کی ملکیت کا ڈھانچہ مذہبی لحاظ سے انتہائی غیرمتوازن ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ریاستی عدم مساوات، وقف املاک پر قبضے، عدالتی پیچیدگیاں اور آبادیاتی تبدیلیوں نے انہیں معاشی خودمختاری سے دور کر دیا ہے۔ عیسائی اداروں کی زمینوں کا تنازع بھی دکھاتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کی جائیدادیں کتنی غیر محفوظ ہیں۔
یہ تمام عوامل نہ صرف معاشی بدحالی کا سبب ہیں بلکہ مذہبی، تہذیبی اور سماجی خودمختاری کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش ناک ہے۔