تاشقند میں 20 تا 21 نومبر کو ہونے والی ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر کی 11ویں بین الاقوامی کانفرنس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اولار بیک شَرشِییف نے واضح اور غیر معمولی وارننگ جاری کی کہ افغانستان اور شام میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اور یہ نیٹ ورکس سینٹرل ایشیا میں سلیپر سیلز قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کانفرنس میں اقوامِ متحدہ، او ایس سی ای، انٹرپول، سی ایس ٹی او اور دیگر علاقائی تنظیموں نے بھی اعلیٰ سطح کے خدشات کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے پھیلتے خطرے سے نمٹنے کے لیے تاشقند میں گلوبل اینٹی ٹیرر سینٹر کے قیام کی تجویز پیش کی۔
پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تصدیق
ایس سی او ریٹس کی یہ تشویشناک رپورٹ بالکل وہی تصویر پیش کرتی ہے جس کی طرف پاکستان کئی برسوں سے توجہ دلاتا آیا ہے کہ افغانستان عالمی دہشت گرد گروہوں کا بنیادی بیس کیمپ بنتا جا رہا ہے اور خطے کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
شَرشِییف کی جانب سے یہ کہا جانا کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے سلیپر سیلز بنا رہے ہیں، پاکستان کی اس طویل مدتی وارننگ سے 100 فیصد مطابقت رکھتا ہے جس میں بارہا کہا گیا کہ ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار، القاعدہ، داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم کو طالبان انتظامیہ کے تحت محفوظ ماحول میسر ہے۔
جعلی دستاویزات، سرحد پار نقل و حرکت؛ وہی خطرہ جو پاکستان اجاگر کرتا رہا
ریٹس کی رپورٹ میں ان خطرات کا ذکر کیا گیا کہ افغانستان سے نکلنے والے شدت پسند جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے خطے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ بات پاکستان کے طویل مشاہدے سے مکمل ہم آہنگ ہے، جہاں کے اداروں نے متعدد مواقع پر کے پی اور بلوچستان میں داخل ہونے والے ” تشکیل” کی منظم نقل و حرکت کو ریکارڈ کیا۔
صرف حالیہ عرصے میں 172 ٹی ٹی پی تاشکیلیں اور تقریباً 4 ہزار شدت پسند خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے، جب کہ بلوچستان میں 83 تاشکیلیں رپورٹ ہوئیں، وہی وہ پیٹرن ہے جس کی طرف ایس سی او نے اب عالمی سطح پر نشاندہی کی ہے۔
عالمی تنظیموں کی مشترکہ گواہی
کانفرنس میں شریک اقوامِ متحدہ، او ایس سی ای، انٹرپول، سی ایس ٹی او اور دیگر اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان سے اُٹھنے والی دہشت گردی “الزام” نہیں بلکہ عالمی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
یہ وہی مؤقف ہے جو پاکستان مسلسل پیش کرتا رہا ہے مگر جسے کابل مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
طالبان کے وعدے اور عملی صورتحال میں تضاد
ایس سی او ریٹس کی تصدیق کے مطابق طالبان حکومت اپنی دوحہ ذمہ داریوں میں ناکام ثابت ہوئی ہے جس میں یہ وعدہ شامل تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
پاکستان پہلے ہی 60 سے زائد ٹی ٹی پی کیمپوں کے ٹھوس کوآرڈینیٹس کابل کو فراہم کر چکا ہے، جن میں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ اور زابل شامل ہیں مگر عملی کارروائی صفر۔
بھرتی، فنڈنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے توسیع
ریٹس کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ افغان بیسڈ دہشت گرد تنظیمیں
- آن لائن ریڈیکلائزیشن
- کرپٹو فنڈنگ
- اے آئی سے تیار کردہ پروپیگنڈا
کے ذریعے خطے کے نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
یہ وہی خطرہ ہے جس پر پاکستان بارہا خبردار کر چکا ہے، خاص طور پر جب 2024 کے بعد سے درجن بھر افغان خودکش حملہ آور پکڑے یا مارے گئے اور 267 افغان شہری دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے۔
افغانستان سے پھیلتی دہشت گردی؛ ایک مستند علاقائی خطرہ
ایس سی او ریٹس کی تازہ وارننگ، اقوامِ متحدہ کی 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ سے مل کر یہ ثابت کرتی ہے کہ طالبان انتظامیہ کے تحت
ٹی ٹی پی، القاعدہ کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اب یہ صرف پاکستان کا مؤقف نہیں بلکہ بین الاقوامی فورمز کی تصدیق شدہ حقیقت ہے۔تاشقند میں 20 تا 21 نومبر کو ہونے والی ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر کی 11ویں بین الاقوامی کانفرنس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اولار بیک شَرشِییف نے واضح اور غیر معمولی وارننگ جاری کی کہ افغانستان اور شام میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اور یہ نیٹ ورکس سینٹرل ایشیا میں سلیپر سیلز قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کانفرنس میں اقوامِ متحدہ، او ایس سی ای، انٹرپول، سی ایس ٹی او اور دیگر علاقائی تنظیموں نے بھی اعلیٰ سطح کے خدشات کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے پھیلتے خطرے سے نمٹنے کے لیے تاشقند میں گلوبل اینٹی ٹیرر سینٹر کے قیام کی تجویز پیش کی۔
دیکھیں: افغانستان میں عدم استحکام یا رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں، واحد مطالبہ دراندازی روکنا ہے؛ پاکستان