واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دستے پر افغان شہری کی جانب سے کیے گئے حملے نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ پاکستانی حکام نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ افسوسناک واقعہ نہ صرف امریکی عوام کے خلاف حملہ ہے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھء سنگین خطرہ ہے۔ محمکۂ خارجہ نے اپنے بیان میں شہدا کے اہلِخانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
پاکستان کی ڈی پورٹیشن پالیسی کی اہمیت
پاکستانی حکام نے مذکورہ واقعہ کو غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی اپنے وطن واپسی کی پالیسی کو قیامِ امن کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ افغانستان سے آنے والے بعض عناصر دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تعاون
پاکستان نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کا آغاز کرے۔ ترجمان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اس کے خلاف بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
بھارتی کردار پر تشویش
پاکستانی حکام نے افغانستان میں بھارتی کردار پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ خطے میں بیرونی مداخلت نے امن و سلامتی کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستان کا موقف
پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور عالمی برادری کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ نیزہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہی سے عالمی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوں میں تال میل پیدا کریں اور ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔