افغانستان میں داخلی انتشار اور بکھراؤ ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے۔ 28 نومبر کو افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے ساتویں سیکیورٹی زون ٹیلی ویژن ہل پر راکٹ حملہ کیا۔ حملے کے بعد 15 منٹ تک ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے جھڑپ جاری رہی، جس میں تین طالبان جنگجو ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
پنج کشته و زخمی طالبان در بدخشان
— جبههَ آزادی افغانستان (@AfgFreedomAFF) November 30, 2025
مبارزان جبهه آزادی افغانستان شام شنبه، ۸ قوس ۱۴۰۴ خورشیدی، بر حوزهی هفتم امنیتی طالبان تروریست، در ساحهی تپهی تلویزیون شهر فیضآباد، مرکز ولایت بدخشان حمله راکتی انجام داده اند.
درگیری بیشتر از ۱۵ دقیقه میان چریکهای جبهه و تروریستان طالب… pic.twitter.com/QayMdOySnv
یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حملہ نہیں بلکہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی مسلسل سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ملک بھر میں سیکیورٹی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے، مختلف نسلی، علاقائی اور سیاسی گروہ طالبان حکومت کے خلاف کھل کر مزاحمت کر رہے ہیں، اور افغانستان کا نقشۂ تنازع پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ خود طالبان تحریک کے اندر بھی ڈھکے چھپے اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف دھڑوں، کمانڈرز اور پاور سینٹرز کے درمیان کشیدگی نے فیصلہ سازی کو مزید کمزور کر دیا ہے، جس کا اثر براہ راست سیکیورٹی کی ناکامیوں اور گورننس کے بگاڑ کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ واقعات ایک ایسے افغانستان کی تصویر پیش کرتے ہیں جو بگڑتے ہوئے داخلی بحران میں جکڑا ہوا ہے۔ حکمرانی کا فقدان، ٹوٹتی ہوئی سیکیورٹی، بڑھتی ہوئی مزاحمت اور طالبان کی اندرونی تقسیم سب عناصر مل کر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان میں استحکام کی امیدیں عملی طور پر معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔