ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق رحمان اللہ لکنوال، وہ افغان شہری جس نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کے قریب دو امریکی نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی، امریکہ میں شدید ذہنی دباؤ، عدم استحکام اور معاشرتی تنہائی کا شکار تھا۔
رپورٹ کے مطابق لکنوال نہ تو مستقل ملازمت برقرار رکھ پایا اور نہ ہی اپنے روزمرہ معمولات میں توازن قائم رکھ سکا۔ وہ طویل عرصے تک اندھیرے کمروں میں تنہا رہتا تھا، جبکہ کبھی کبھار اچانک ایک سے دو ہفتے طویل ملک گیر ڈرائیوز پر نکل جاتا تھا، جس سے اس کی ذہنی حالت کے بگڑنے کے واضح آثار نظر آتے تھے۔
’خودکشی کا خدشہ‘؛ کمیونٹی ایڈووکیٹ کی تشویش
اے پی کے مطابق اس کی حرکات و سکنات اس حد تک تشویشناک ہوگئیں کہ ایک کمیونٹی ایڈووکیٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ خودکشی کی طرف جا رہا ہے۔
اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس شخص نے ایک مقامی پناہ گزین تنظیم سے مدد طلب کی تاکہ لکنوال کو ممکنہ ذہنی صحت کے بحران سے بچایا جا سکے۔
ای میلز سے نئے حقائق سامنے آئے
خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایسی ای میلز بھی موصول ہوئی ہیں جن میں اس افغان پناہ گزین کے بارے میں بڑھتی ہوئی وارننگز اور تحفظات درج تھے۔ یہ اب تک کی سب سے واضح نشاندہی ہے کہ لکنوال امریکا میں اپنی نئی زندگی کے ساتھ شدید مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہا تھا۔
امریکی حکام واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ یہ نئی معلومات اس کیس کے محرکات کو سمجھنے میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔