تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔ تحقیقات کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

آبی ماہرین کا انتباہ: بلوچستان پانی کی شدید قلت اور خشک سالی کی لپیٹ میں

اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا زیرِ کاشت رقبہ 7.2 فیصد رہ گیا ہے جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی کمی برقرار رہی تو غذائی قلت اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خدشہ ہے۔
اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا زیرِ کاشت رقبہ 7.2 فیصد رہ گیا ہے جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی کمی برقرار رہی تو غذائی قلت اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خدشہ ہے۔

آبی ماہرین کے مطابق بلوچستان کے بحران کی بنیادی وجوہات کم بارشیں اور زیرِ زمین پانی کی تیز گراوٹ ہیں

December 3, 2025

بلوچستان اس وقت شدید خشک سالی اور پانی کے بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں زیرِ کاشت رقبہ کم ہوکر محض 7.2 فیصد رہ گیا ہے۔ زرعی ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ہنگامی بنیادوں مؤثر آبی انتظامی اقدامات نہ کیے گئے تو غذائی قلت اور وسیع پیمانے پر نقل مکانی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

متاثرہ علاقوں کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق ہنہ جیسے علاقے جو کبھی سیب کے باغات کے حوالے سے مشہور تھے لیکن اب یہ علاقہ پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ بارز اور پانی کی کمی کے باعث باغات سوکھ رہے ہیں جس سے کسانوں کی روزی روٹی بھی شدید خطرے میں ہے۔ مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ پانی کی عدم دستیابی نے نہ صرف فصلوں کو تباہ کیا ہے بلکہ ان کی روزی روٹی کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بحران کی وجوہات
ماہرین کے مطابق بلوچستان کے بحران کی بنیادی وجوہات میں بارشوں میں مسلسل کمی، اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں تیزی سے ہونے والی گراوٹ شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صوبے میں زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال 3 سے 4 فٹ تک نیچے جا رہی ہے، جس کے باعث دیہی علاقوں کی تقریباً 75 فیصد آبادی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کی رائے
زرعی و آبی امور کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ ڈیموں کی تعمیر، پانی کے جدید ذخیرہ کاری طریقوں کو اپنانا اور آبی وسائل کے موثر انتظام کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو نہ صرف صوبے کی زراعت تباہ ہو جائے گی بلکہ ملکی خوراک کی سلامتی بھی شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

دیکھیں: بلوچستان میں ایک ہفتے کے دوران ایک ارب کا اسمگل شدہ مال ضبط کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔ تحقیقات کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *